لندن کے پرتعیش ہوٹل کے کمرے میں سعودی شہزادہ مردہ پایا گیا

انتہائی خطرناک مقدار میں نشہ آور اشیاء اور الکحل کے استعمال کا انکشاف


لندن(قدرت روزنامہ)لندن میں انر ویسٹ کورونرز کورٹ کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ 29 سالہ سعودی شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل سعود کینسنگٹن کے میریٹ ہوٹل کے باتھ روم کے فرش پر پراسرار طور پر مردہ پائے گئے، میڈیکل انکوائری اور ٹاکسیکولوجی رپورٹ میں ان کی موت الکحل، پارٹی ڈرگ اور دیگر ادویات کے مہلک آمیزے کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ شہزادہ عبداللہ نے کینسنگٹن لندن کے 600 پاؤنڈ فی نائٹ والے ہوٹل میں ایک ہفتے کے قیام کے لیے چیک ان کیا، واقعے سے ایک شام قبل انہیں سی سی ٹی وی کیمروں میں ہوٹل کے باہر سگریٹ پیتے اور پھر اکیلے ہی اپنے کمرے میں جاتے دیکھا گیا، اگلے دن جب صفائی کا عملہ پانچویں منزل پر واقع ان کے بند کمرے میں داخل ہوا تو وہ باتھ روم کے فرش پر لباس میں ملبوس پڑے ملے، پیرا میڈیکس کی تمام تر کوششوں کے باوجود موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔
اسسٹنٹ کورونر جین ہارکن نے تمام شواہد اور سی سی ٹی وی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ محض ایک المناک حادثہ تھا اور خودکشی کے کوئی شواہد نہیں ملے، کورونرز کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق شہزادے نے انتہائی خطرناک مقدار میں نشہ آور اشیاء کا استعمال کیا تھا، خون میں الکحل کی مقدار 222 ملی گرام پائی گئی جو برطانیہ میں ڈرائیونگ کے لیے مقررہ قانونی حد 80 ملی گرام سے تین گنا زیادہ تھی جو کوما کا سبب بن سکتی تھی، ان کے جسم سے انتہائی مہلک اور خطرناک سطح پر گاما ہائیڈروکسی بیوٹیریٹ ڈرگ پائی گئی، ٹیسٹ میں چرس کے اثرات، پریشانی اور گھبراہٹ دور کرنے والی دوا زینیکس اور دیگر ذہنی سکون کی ادویات کے اثرات بھی پائے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ شہزادہ عبداللہ طویل عرصے سے الکحل اور زینیکس کی لت کا شکار تھے اور انہوں نے اپنی موت سے چند ماہ قبل ہی بحالیِ صحت کے مہنگے ترین مراکز سے علاج مکمل کیا تھا، گزشتہ سال اگست میں انہوں نے ساؤتھ ویسٹ لندن کے معروف کلینک میں علاج کرایا جہاں رہائشی علاج کی لاگت 35 ہزار پاؤنڈ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ روپے فی ہفتہ ہے۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ کلینک میں علاج کے دوران ان کا رویہ انتہائی تعاون پر مبنی تھا اور انہیں خودکشی کے کسی خطرے کے بغیر ڈسچارج کیا گیا تھا، اس کے بعد انہوں نے مرسی سائیڈ میں واقع 7 ہزار پاؤنڈ فی ہفتہ کے ایک اور نجی کلینک میں اپنا علاج جاری رکھا اور وہاں صحتیاب ہو کر وہاں سے روانہ ہوئے تھے۔

WhatsApp
Get Alert