جیفری ایپسٹین سے تعلق کے دعوؤں پرمیلانیا ٹرمپ کی مصنف پر قانونی پابندیاں عائد کرنے کی درخواست

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ نے مصنف اور صحافی مائیکل وولف کے خلاف جاری قانونی تنازع میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے وفاقی عدالت سے مصنف پر قانونی پابندیاں (Sanctions) عائد کرنے کی درخواست دائر کر دی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مائیکل وولف نے اپنی تحریروں میں دعویٰ کیا کہ میلانیا ٹرمپ کا بدنام زمانہ امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلق تھا۔

میلانیا ٹرمپ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

رواں سال فروری میں میلانیا ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے مائیکل وولف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے بیانات واپس لیں اور معذرت کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف 1 ارب ڈالرز ہرجانے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

اس کے بعد مائیکل وولف نے امریکی اینٹی SLAPP قانون کے تحت عدالت سے رجوع کیا، تاہم امریکی ڈسٹرکٹ جج میری کے ویسکوسل نے 29 مئی کو ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اب میلانیا ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے عدالت میں نئی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مائیکل وولف اور ان کے وکلاء نے ایک بے بنیاد مقدمہ دائر کیا، جس کی پشت پر کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں تھا اور اس مقدمے کو سیاسی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب سماعت کے دوران جج میری کے ویسکوسل نے میلانیا ٹرمپ کی قانونی ٹیم کو خبردار کیا تھا کہ کسی فریق پر پابندیاں عائد کرانے کے لیے قانونی معیار انتہائی سخت ہوتا ہے۔

جج نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چونکہ مائیکل وولف کی درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی ہے، اس لیے بعض اوقات اتنا کافی ہوتا ہے۔

اس کے باوجود میلانیا ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اپنی نئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مائیکل وولف نے عدالتی کارروائی کو ہراساں کرنے اور غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا، اس لیے ان کے خلاف قانونی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔

WhatsApp
Get Alert