چمن بارڈر کی بندش نے لاکھوں خاندانوں کا روزگار چھین لیا، تجارتی راستے فوری بحال کیے جائیں: مولانا ہدایت الرحمٰن

کوئٹہ(ڈیلی قدرت) چمن بارڈر کی مسلسل بندش،بے روزگاری،مہنگائی اور بدامنی کے خلاف جماعت اسلامی چمن کے زیرِ اہتمام ٹرنچ روڈچمن میں عظیم الشان عوامی جلسہ صوبائی امیرجماعت اسلامی بلوچستان و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ جلسے میں جماعت اسلامی کے صوبائی و ضلعی ذمہ داران، قبائلی عمائدین، تاجروں،علمائے کرام،نوجوانوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ چمن بارڈر کی بندش نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کا روزگار چھین لیا ہے۔سرحدی تجارت بند ہونے سے عوام تاجرنانِ شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں جبکہ بے روزگاری،مہنگائی اور بدامنی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔باب دوستی کوباب دشمنی بنانے والے عوام کے خیر خواہ نہیں۔چمن سے کراچی تک قومی شاہراہوں،بلوچستان کے شہروں،دیہات اور پہاڑی علاقوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ عوام خوف و ہراس کے بغیر زندگی گزار سکیں۔مستونگ سمیت بلوچستان بھرمیں بے گناہوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے فورسزوحکمران عوامی مسائل کے حل کے بجائے اپنی مراعات اور مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ غریب عوام کے دکھ درد، بے روزگاری اور معاشی تباہی سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ اسمبلیوں میں ایسے افراد بیٹھے ہیں جن سے عوام کو کسی خیر کی امید نہیں۔انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے اور بلند و بانگ نعرے محض دھوکہ ثابت ہوئے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ عوام کو روزگار،امن، معیاری تعلیم،صحت اورانصاف کی فراہمی حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ جو حکمران اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو جائیں، انہیں اقتدار سے چمٹے رہنے کے بجائے گھر چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ایک طویل عرصے سے ناانصافی،محرومی اور حکومتی بے حسی کا شکار ہیں، مگر جماعت اسلامی ہر فورم پر ان کے حقوق کی آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے بلوچستان کے صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے صحافی انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔جماعت اسلامی ہمیشہ آزادی? صحافت اور صحافی برادری کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بارڈرز بند، تجارت بند، شاہراہیں غیر محفوظ، روزگار کے مواقع ختم،انٹرنیٹ کی سہولت متاثر، بجلی و گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، انصاف کے دروازے بند اور سچ دکھانے والے میڈیا پر قدغنیں عائد ہیں۔ان تمام مشکلات نے عوام کی زندگی کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب تو عوام کے لیے سکون اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا بھی دشوار بنا دیا گیا ہے۔جلسے سے جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ،نائب امیر صوبہ مولانا عارف دمڑ، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری قاری امداد اللہ ڈاکٹربسم اللہ ودیگر رہنماؤں نے خطاب میں کہا کہ چمن سمیت بلوچستان کے سلگتے ہوئے اجتماعی مسائل کو ایوان کے اندر اور باہر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے والی واحد سیاسی قوت جماعت اسلامی اورمولاناہدایت الرحمن ہیجبکہ چمن بارڈر کی بندش کے خلاف ہر احتجاج، دھرنے اور عوامی تحریک میں بھی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے عملی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ بلوچوں، پشتونوں اور تمام مظلوم عوام کی توانا آواز ہیں۔ بابِ دوستی کو قانونی تجارت، برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور عوامی فلاح کے لیے کھولا جائے۔ نفرت، تعصب، تصادم اور جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بلکہ باہمی احترام، انصاف اور قانونی تجارت ہی خطے میں امن و خوشحالی کی ضمانت ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چمن بارڈر فوری طور پر قانونی تجارت اور پیدل آمدورفت کے لیے کھولا جائے، عوام کو روزگار فراہم کیا جائے، شاہراہوں کا امن بحال کیا جائے اور بلوچستان کے عوام کے آئینی، معاشی اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران وادارے اورفورسز بیرونی دباؤ اور عوام دشمن پالیسیوں پر عمل کرکے ملک،قوم اور بلوچستان کے عوام کے مفادات کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق، روزگار، امن، انصاف اور خوشحالی کی جدوجہد ہر سطح پر بھرپور انداز میں جاری رکھے گی
