ضلع برشور میں درجنوں مسلح افراد کی موجودگی پر تشویش، ریاستی عملداری پر سنگین سوالات: پشتونخوا نیپ
کچلاغ اور ژوب شاہراہ پر مسلح جھتوں کی شناختی کارڈ چیکنگ اور زمینوں کا 'سروے' ناقابل برداشت ہے کھربوں کے سیکیورٹی بجٹ کے باوجود امن و امان کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری حکومت اور اداروں پر عائد ہوتی ہے: پریس ریلیز

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ نے ضلع برشور کی یونین کونسل شبک نارین کے علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے درجنوں مسلح افراد کی موجودگی پر شدید تشویش اور گہرے اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ واقعہ صوبے میں ریاستی عملداری، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی آبادی کی اطلاعات کے مطابق غیر مقامی مسلح جھتیں کئی دنوں سے آزادانہ نقل و حرکت کر رہی ہیں جس سے عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ فورسز اور حساس اداروں کی موجودگی کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جو اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر ادارے ان مسلح افراد سے آگاہ ہیں تو عوام کو بتایا جائے کہ انہیں کس کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ کس بنیاد پر سرگرمیاں کر رہے ہیں۔
پشتونخوا نیپ نے کہا کہ برشور کا واقعہ پورے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا تسلسل ہے۔ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید برآں، کچلاغ اور ژوب شاہراہ پر مسلح جھتوں کی جانب سے شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کرنا، ناکہ بندیاں قائم کرنا اور ضلع زیارت (کچھ) میں “سروے” کے نام پر زمینوں کی پیمائش کرنا انتہائی خطرناک اور غیر قانونی اقدامات ہیں۔ اگر مسلح گروہوں کو یہ اختیار مل جائے اور ریاست خاموش رہے تو یہ قانون کی حکمرانی کے لیے تشویشناک ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کھربوں روپے کے سالانہ اخراجات، ہزاروں اہلکاروں اور سینکڑوں چیک پوسٹوں کے باوجود اگر دہشت گردی اور لوٹ مار بڑھ رہی ہے تو اس کی ذمہ داری وفاقی، صوبائی حکومتوں اور اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مسلح جھتوں کی سرگرمیوں، حالیہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی شفاف اور آزادانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ آخر میں متنبہ کیا گیا کہ اگر عوام کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو پارٹی دیگر جماعتوں اور عوام کے ساتھ مل کر ہر جمہوری فورم پر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
