شہید ہم سب کے ہیں، مولانا اپنا غصہ ان پر نہ نکالیں، علی امین گنڈاپور

مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بلیک میل کر کے جی ایچ کیو سے شہداء کی 1200 کنال زمین اپنے نام کرائی، اب مولانا کو اقتدار میں حصہ نہیں ملا اس لیے وہ غصے میں ہیں؛ سابق وزیراعلیٰ کا الزام


ڈیرہ اسماعیل خان(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور نے جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں اور بالخصوص جی ایچ کیو کو بلیک میل کرکے شہداء کے حصے کی 1200 کنال اراضی اپنے نام منتقل کروائی، پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے اس انداز میں بلیک میلنگ کا طریقہ کار اپنا کر شہداء کے لیے مختص زمین اپنے نام کرائی ہو، وہ اپنی سیاست میں شہداء کی قربانیوں اور نام کو گھسیٹنے سے گریز کریں اور فورسز کے خلاف دیا گیا اپنا متنازعہ بیان فوری طور پر واپس لیں۔
علی امین گنڈاپور کہتے ہیں کہ خیبرپختونخواہ کا خطہ طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی زد میں رہا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی اپنی جانوں کے بے مثال نذرانے پیش کیے ہیں، شہید تمام قوم کا سانجھا اثاثہ اور احترام کے قابل ہیں، اس لیے مولانا فضل الرحمان کو چاہیئے کہ وہ اقتدار سے محرومی کا غصہ اور اپنی سیاسی ناکامیوں کی بھڑاس شہداء اور ملکی سلامتی کے اداروں پر نہ نکالیں۔
انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں ملک بالخصوص خیبرپختونخواہ کے عوام نے مولانا اور ان کی پارٹی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا، وہ خود پشین کے حلقے سے فارم 47 میں کی جانے والی دھاندلی کے سہارے جیت کر ایوان میں پہنچے کیونکہ اس بار مولانا فضل الرحمان کو اقتدار کی کسی بھی مسند یا حکومت میں ان کا من پسند حصہ نہیں مل سکا، اس لیے وہ شدید ذہنی دباؤ اور غصے کا شکار ہیں اور اسی مایوسی میں آ کر وہ اداروں اور شہداء کی قربانیوں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔
عمران خان کی جیل میں صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان کو ان کے جائز آئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھنا اور جیل میں ان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنا ریاست کی جانب سے کی جانے والی کھلی زیادتی اور انتقامی کارروائی ہے، تحریکِ انصاف کا ہر کارکن اور قیادت عدالتوں اور عدالتی نظام سے انصاف کی پوری امید رکھتی ہے اور وہ دن دور نہیں جب عدلیہ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو تمام جھوٹے مقدمات سے نجات ملے گی اور وہ اپنے تمام قانونی و آئینی حقوق کے ساتھ ایک بار پھر عوام کے درمیان موجود ہوں گے۔
ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال اور حکومتی اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان محض ایک نورا کشتی کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل معاشی و سیاسی مسائل سے ہٹائی جا سکے، دونوں جماعتیں بظاہر ایک دوسرے کی مخالف بننے کا ناٹک کرتی ہیں لیکن اقتدار کے مفادات اور قومی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر ہمیشہ ایک ہی صفحے پر کھڑی نظر آتی ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا جمہوریت یا عوامی فلاح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

WhatsApp
Get Alert