مودی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے، طلبا احتجاج پر وزیر تعلیم مستعفی

نئی دہلی (قدرت روزنامہ)بھارت میں لگ بھگ ڈیڑھ ماہ سے جاری طلبا احتجاج کو اہم کامیابی ملی ہے، ان کے مطالبے پر بھارتی وزیر تعلیم پردھان منتری نے بالآخر استعفیٰ دے دیا ہے۔

یہ استعفیٰ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر بھارت بھر اور بالخصوص نئی دہلی میں طلبا، نوجوانوں اور اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیر تعلیم کے استعفے کی خبروں پر کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اچھ ہوا جو استعفیٰ دیدیا۔

جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے آج دوپہر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کو شام 4 بجے سے پہلے وزیرِ تعلیم کے استعفے پر ہاں یا ناں میں جواب دینا ہو گا۔ بصورتِ دیگر احتجاج کو پورے ملک میں پھیلانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

طلبا تنظیموں، کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوانوں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دے رکھا ہے اور دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

‘باقی مطالبات پورے کرو’

پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے دیگر دو دیرینہ مطالبات ابھی منظور ہونا باقی ہیں، جن میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلِ خانہ کے لیے ایک کروڑ بھارتی روپے، اور ملک کے کسی بھی حصے میں اس معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف حکومتی کارروائیاں بند کرنا شامل ہیں۔

اس کے ساتھ بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بھی مودی حکومت سے تین مطالبات کیے تھے، جن میں “کرپٹ” وزیر تعلیم کا استعفیٰ، طلبا پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی، اور وزیر اعظم مودی کا معافی مانگنا شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے طلبا احتجاج کو قابلِ توجہ نہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا، مگر معاملہ طول پکڑنے اور طلبا کی جانب سے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے اعلان کے بعد بزورِ طاقت احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس دوران نہ صرف جنتر منتر اور ملحقہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کی بلکہ طلبا پر لاٹھی چارج کیا، واٹر کینن فائر کیے، اور آنسو گیس بھی پھینکے۔

جب طلبا ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال کے بعد بھی پیچھے نہ ہٹے تو مودی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انہیں امتحانی پرچے لیک کرانے میں ملوث افراد کو فوری سزا دینے کے لیے “فاسٹ ٹریک” عدالتیں قائم کرنے کا چورن بیچنا چاہا۔

تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مظاہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ برقرار رکھا تھا۔

WhatsApp
Get Alert