جب بنگال میں آپ سرینڈر کر رہے تھے تو اُس وقت انڈیا کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ مولانا فضل الرحمان
سیاست دانوں کو دبانے کیلئے صدیوں پرانے، فرسودہ اور دقیانوسی ہتھکنڈے استعمال کرنا چھوڑ دیں، نئی دنیا میں ہیں، نئے دور کے تقاضوں کو اپنائیں اور سلیقے سے بات کریں؛ سربراہ جے یو آئی ف کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان پر اور ان کی جماعت پر بے بنیاد الزامات عائد کرکے انہیں شدید آزمائش اور ابتلاء میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی، جب ان الزامات کا دفاع کیا تو ایک نیا بیانیہ تراشنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ہماری آواز کو دبایا جا سکے۔ جمعیت علماء اسلام ف کے مطابق کے صحافی آصف نثار سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام لگا کر مجھے ابتلاء میں مبتلا کیا گیا، اور جب میں نے اپنا اور اپنی جماعت کا دفاع کیا تو اب یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ ہمارے بیانات سے ہندوستان میں پاکستان کا تاثر خراب ہو رہا ہے یا بھارتی میڈیا اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جو لوگ آج بھارتی میڈیا کو مواد فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہیں، وہ ماضی میں اپنے کردار پر نظر ڈالیں، جب بنگال میں آپ سرینڈر کر رہے تھے تو اُس وقت آپ انڈیا کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ تمہیں شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہوئے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی صحافی آصف نثار سے اہم گفتگو#مولانا_چھاگئے#کرپٹ_چوکیدار#کالےچینلز_کی_مشتاقیاں#پیڈ_ٹرینڈ_فلاپ#کرائے_کے_باکو pic.twitter.com/N8V5LsjceF
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) July 24, 2026
انہوں نے کہا کہ انگریز کے دورِ حکومت میں جو شخص انگریزوں کا وفادار ہوتا تھا اسے وفادار تسلیم کیا جاتا تھا اور جو ہندوستان کی آزادی اور عوام کا وفادار ہوتا تھا اسے غدار قرار دیا جاتا تھا، آج کے دور میں بھی وہی پرانا نوآبادیاتی فارمولا نافذ ہے، جو شخص اسٹیبلشمنٹ کا وفادار ہے اسے محبِ وطن اور وفادار کہا جاتا ہے، جو شخص پاکستان، اس کے آئین اور عوام کا وفادار ہے اسے غدار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مولانا نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اصل رکھوالے اور مقتدر حلقے اپنے ہی شہریوں اور سیاسی رہنماؤں کی کردار کشی میں مصروف ہیں، ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے 200 سے زائد جید علماء کرام کے جنازے اٹھائے ہیں۔ ہم نے اس ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خون دیا ہے، اس لیے ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سربراہ جے یو آئی ف نے مقتدر حلقوں اور سیاسی انجینئرنگ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کو دبانے اور ان کی آواز بند کرنے کے لیے صدیوں پرانے، فرسودہ اور دقیانوسی ہتھکنڈے استعمال کرنا اب بند ہو جانے چاہئیں، ہم اب ایک نئی دنیا اور نئے دور میں جی رہے ہیں، نئے دور کے تقاضوں کو اپنائیں، اپنی روش بدلیں اور سیاست دانوں سے سلیقے اور احترام کے ساتھ بات کرنا سیکھیں۔
سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان ن کہا کہ ہمارے پاس یا پارٹی کے پاس مخالفین کی طرح اربوں روپے کے ڈیجیٹل میڈیا سیل چلانے کے وسائل نہیں ہیں، ڈیجیٹل میڈیا سیل کے لیے میرے پاس ایک روپیہ کا بھی فنڈ نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ان فقیروں نے خالی جیب اربوں ڈالر کے پروپیگنڈہ اور میڈیا مشینری کا مقابلہ کیا ہے اور حق کی آواز کو دبنے نہیں دیا۔
