ایران مذاکرات کی بحالی پر آمادہ، پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغام بھیج دیا، العربیہ کا دعویٰ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی آمادگی سے آگاہ کر دیا، تہران نے پاکستان کو بتایا ہے کہ وہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات کے نئے دور کے لیے تیار ہے۔ العربیہ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے مطابق آگے بڑھنے چاہئیں، تہران مذاکرات کی بحالی کے لیے مرحلہ وار ایجنڈا چاہتا ہے، جس میں پہلے آبنائے ہرمز سے متعلق امور، اس کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں اور آخر میں اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے، ایران نے پاکستان کو یہ مؤقف بھی دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی نئے بحری کوریڈور کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع فراہم کرنے کے لیے ایران پر حملوں میں وقفہ برقرار رکھا ہے، اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو آگے بڑھنے کے لیے کچھ گنجائش دینا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے ممکنہ مذاکرات کی نوعیت یا تفصیلات سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے 13 مسلسل راتوں تک جاری رہنے والی امریکی بمباری کے بعد اختتام ہفتہ پر حملوں میں وقفہ دیکھنے میں آیا، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اپنے ہمسایہ ممالک پر کسی نئی کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں، ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا اولین ترجیحی راستہ ہمیشہ سفارت کاری رہا ہے، تاہم انہوں نے ایران کو یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دریں اثنا رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ جب تک امریکہ حملے معطل رکھے گا، تہران بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دے گا، ایران کا مؤقف بدستور “حملے کے بدلے حملہ” کا ہے، یعنی اگر حملے بند رہیں گے تو ایران بھی اپنی عسکری کارروائیاں معطل رکھے گا، ایرانی ذریعے نے تاہم اس بات کا بھی اظہار کیا کہ تہران کو امریکی نیت پر مکمل اعتماد نہیں اور وہاں عمومی رائے یہی ہے کہ حملوں میں موجودہ وقفہ مستقل امن کی کوشش کے بجائے ایک وقتی اور حکمت عملی پر مبنی اقدام ہو سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert