بلوچستان آل پارٹیز کانفرنس: زیارت سانحے کے معاہدے پر عملدرآمد اور آزادانہ انتخابات کا مطالبہ نظام درست نہیں چل رہا، بااختیار وزیر داخلہ بھی اعتراف کر رہے ہیں: مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)آل پارٹیز کانفرنس کے تیسرے اجلاس کے بعد کوئٹہ پریس کلب میںمشترکہ پریس کانفرنس سے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی پی این پی اخترحسین لانگو، ایچ ڈی پی قادر علی ناہل،پشونخوا نیشنل عوامی پارٹی عیسی روشان اور دیگر نے خطاب کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زیارت سانحہ سے متعلق طے شدہ معاہدے پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کی جائے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اگلی آل پارٹیز کانفرنس ستمبر میں منعقد ہوگی، جس میں تمام مرکزی قیادت شرکت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی واضح کیا تھا کہ “فارم 47” والا نظام نہیں چل سکتا، جبکہ آج خود حکومت کے بااختیار وزیر داخلہ بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ نظام درست انداز میں نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومت کرنے کا حق دیا جائے اور بلوچستان میں اسمبلیاں تحلیل کرکے آزاد، منصفانہ اور شفاف عام انتخابات کرائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست، ملک اور بلوچستان کو درپیش بحرانوں سے نکالنے میں سیاسی جماعتیں ہی مثر کردار ادا کر سکتی ہیں، اس لیے اب بھی وقت ہے کہ اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے 17 نکاتی ایجنڈا تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی مداخلت کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عوام میں بداعتمادی کیوں پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی تمام شاہراہوں کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔مولانا عبدالواسع نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے بجائے پشتون جرگہ بلانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی خواہش تھی کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر مشترکہ پلیٹ فارم پر اجلاس بلاتے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی معاملات کو سیاسی دائرے میں رہ کر حل کیا جائے کیونکہ بلوچستان بلوچ اور پشتون تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالواسع کی قیادت میں مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول کبھی آئین، کبھی این ایف سی اور کبھی اٹھارویں ترمیم کو تنازع بنا کر عوامی مسائل کو پس پشت ڈالا جاتا ہے۔پریس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے خضدار میں اسما جتک کے قتل کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ رشتہ سے انکار پر پہلے لڑکی کے منگیتر، پھر ماموں اور اب والد کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ایک لڑکی کو اس کے گھر میں تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو امن و امان کے دعوے کیسے درست قرار دیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں بلوچ، پشتون، ہزارہ اور دیگر اقوام کے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
