صوبائی حکومت نے معاشی بحالی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد اسٹریٹیجک پروجیکٹس اور انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے: چیف سیکرٹری بلوچستان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے معاشی بحالی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد اسٹریٹیجک پروجیکٹس اور انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کرنا اور ڈیجیٹل اقتصاد کو فروغ دینا ہے تاکہ صوبے کی معاشی ترقی میں تیز رفتاری آئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں اسٹریٹیجک پروجیکٹس میں پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع سے متعلق اقدامات کے تحت، انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے کل 57,000 افراد کو گرانٹس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اب تک 2,500 افراد کو گرانٹس کی تقسیم مکمل کی جا چکی ہے، جس سے مقامی کاروبار کھولنے یا توسیع کرنے والے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔ تعلیمی اور ہنر مندی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پروگرام کے تحت 370 طلباء کو مختلف اداروں میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور متعلقہ کورسز کرائے جانے کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو آن لائن بزنس، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ای-کامرس میں مہارت ملے۔ اس قسم کی تربیت نہ صرف نوجوانوں کی روزگار پذیر صلاحیتیں بڑھائے گی بلکہ جدید کاروباری ماڈلز اپنانے میں بھی مدد دے گی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی معاونت کے سلسلے میں 180 سمال میڈیم انٹرپرائزز نے فنانشل سپورٹ کی فراہمی کے لیے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ یہ معاونت کاروباری توسیع، مشینری کی خریداری، ورکنگ کیپیٹل اور مارکیٹنگ کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف موجودہ اقتصادی چیلنجز کا موثر جواب ہیں بلکہ طویل مدتی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے بھی بنیاد رکھیں گے۔ منصوبوں کی شفافیت اور بروقت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکمے نگرانی اور جائزہ کے مخصوص میکانزم نافذ کریں گے۔ اس کے علاؤہ 9 شہروں میں سیف سِٹیز پر کام شروع، سکولوں، کالجز اور دفاتر کو فائبر کے ذریعے نیٹ کنیکٹیویٹی، کمانڈ ایریا ڈیویلپمنٹ، فرٹیلائزرز سٹہ، فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل مارکیٹس کا قیام، میونسپل سروسز میں بہتری، شہروں اور دیہی علاقوں میں صاف 600 بی ایچ یوز میں ٹیلی میڈیسن کی فراہمی، پینے کے پانی کی مستقل فراہمی کیلئے اقدامات، بنیادی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن سمیت اہم منصوبے شامل ہیں جن پر تیزی سے کام جاری ہے۔ 3,000 اسکولوں میں دو اضافی کلاس رومز تعمیر کئے جارہے ہیں ان میں سے 700 کمرے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جبکہ 1100 کمرے رواں سال تعمیر کئے جائیں گے۔
