بیٹے کا بزنس پارٹنر غائب ہے، پولیس گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دے رہی: والد میر رضا


کراچی (قدرت روزنامہ)کراچی کے نوجوان بزنس مین میر رضا کے ہلاکت کیس میں مقتول کے والد میر حسین نے میڈیا سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کیس کی تازہ ترین صورتحال، حکومت کی جانب سے دی جانے والی تجاویز اور تفتیش پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میر حسین کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ سندھ اور میئر کراچی نے ان سے ملاقات کے دوران ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔
اس معاملے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے مقتول کے والد نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر اچھی طرح سوچ بچار کرنے کے بعد ہی اپنا حتمی جواب دیں گے۔
تفتیش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میر حسین نے پولیس کی تشکیل کردہ نئی تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کمیٹی کے سربراہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی ایک اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور مجھے پوری امید ہے کہ ان کی سربراہی میں قائم نئی تحقیقاتی کمیٹی تمام حقائق کو درست انداز میں سامنے لائے گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے میر رضا کا بزنس پارٹنر بھی اس واقعے کے بعد سے پراسرار طور پر غائب ہے۔
اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کے والد نے کہا کہ سابقہ پولیس ٹیم نے ان سے صرف ایک بار تفتیش کی تھی، جبکہ گیسٹ ہاؤس کے ملازمین سے کیا تحقیقات کی گئی ہیں، اس بارے میں بھی انہیں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔
میر حسین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اس واقعے سے متعلق گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج تاحال سامنے نہیں لائی گئی ہے۔
انہوں نے مطالبات اور تحفظات کے ساتھ امید ظاہر کی کہ نئی تفتیشی ٹیم ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر شفاف تحقیقات کرے گی تاکہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
قبل ازیں، آج نیوز اس پُرایسرار گیسٹ ہاؤس کے اندرونی احوال بھی سامنے لاچکا ہے اور وہاں سے روتے ہوئے نکلنے والے چودہ سالہ ملازم شاہد کا بیان بھی منظرِعام پر آچکا ہے۔
شاہد نے بتایا تھا کہ شور مچنے پر دیگر عملہ دیواریں پھلانگ کر فرار ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ گلستانِ جوہر کے اس گیسٹ ہاؤس کا تعلق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے جوڑے جانے کے بعد انہوں نے بھی سائبر کرائم ایجنسی سے رجوع کر کے ان الزامات کو من گھڑت قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو ملی تھی۔ پولیس کی جانب سے پہلے اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اہلِ خانہ کے تحفظات پر قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کے جسم پر تشدد، پسلیاں و دانت ٹوٹنے اور پیچھے سے گولی لگنے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert