نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، پائیدار حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات اور تعلیم ہیں: میر ظہور احمد بلیدی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے دو ہفتے کے بعد آج دوبارہ اپنے حلقے کا دورہ کیا، گورنمنٹ شہید ایوب ڈگری کالج بلیدہ میں تعلیمی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں انہیں مثبت، تعمیری اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو کریں، ان کے مسائل سمجھیں اور انہیں سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے آگاہی دیں۔ تعلیمی کانفرنس میں ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز سر برکت اسماعیل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے بھی خطاب کرکے تعلیم کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالی۔ کالج کے پرنسپل الہی بخش بلوچ نے اظہار تشکر کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض اسسٹنٹ پروفیسر انور زھیر نے سرانجام دیے، تلاوت کلام پاک کی سعادت لیکچرار مولانا عبد الوکیل نے حاصل کی۔ کانفرنس سے صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ورغلا کر ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے جس کا سب سے بڑا نقصان خود نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق کے زور پر کسی قوم یا ملک کو مستقل طور پر فتح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جنگوں کا انجام بالآخر انسانی جانوں کے ضیاع، تباہی اور معاشرتی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہزاروں نوجوان اس تنازع کا ایندھن بن سکتے ہیں اور اندازہ ہے کہ 50 سے 60 ہزار افراد اس تنازع کی نذر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر مسلح افراد کو بھی ایک دن ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا ہوگا، کیونکہ پائیدار حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات، سیاسی عمل اور قومی دھارے میں شمولیت سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کرد قوم اور ترکی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کردوں اور ترکی کے درمیان بھی ایک طویل تنازع موجود رہا، تاہم وقت کے ساتھ سیاسی راستہ اختیار کیا گیا اور لوگ حکومت اور قومی دھارے کا حصہ بنے۔ اس مثال سے یہ سبق ملتا ہے کہ پیچیدہ مسائل کا مستقل حل طاقت کے بجائے سیاسی، جمہوری اور مذاکراتی عمل کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آج ہم جو بات کر رہے ہیں اس کے نتائج اپنی زندگی میں دیکھیں یا آنے والی نسلیں اس تبدیلی کا مشاہدہ کریں، لیکن تاریخ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل تعلیم، ترقی، سیاسی عمل اور نوجوانوں کو مثبت راستہ فراہم کرنے میں ہے۔ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت اور باہمت ہیں، انہیں مایوسی اور تشدد کے راستے کے بجائے تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت، والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ پروگرام کے بعد انہوں نے گدروشیا پوائنٹ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیادی اکائی ہے، بلوچستان کے نوجوانوں کو بندوق کے بجائے قلم، تعلیم، ہنر اور روزگار کی طرف لانے کی ضرورت ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی کڑی نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا پر کیا دیکھ رہے ہیں اور کن سرگرمیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert