شہر اقتدار میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا، کیا حکومت اور اپوزیشن قریب آ رہے ہیں؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اسلام آباد میں سیاسی رابطوں میں اچانک تیزی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ نئے سیاسی رابطوں کی بحث چھیڑ دی ہے۔ عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے کے ساتھ ایک ہی روز اہم سیاسی ملاقاتوں اور بیانات نے شہر اقتدار کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کو نمایاں کردیا ہے۔
ایک طرف چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی، جس میں پارلیمانی امور، قانون سازی اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اسد قیصر اور جنید اکبر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی، جب کہ ان ملاقاتوں کے بعد سامنے آنے والے بیانات نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔
ان تمام سرگرمیوں کے فوری پس منظر میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کا معاملہ بھی موجود ہے، تاہم ملاقاتوں میں پارلیمانی امور، قانون سازی، انتخابی اصلاحات اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ہونے والی ملاقات میں پارلیمانی امور، ملکی سیاسی صورتِ حال اور آئندہ کی پارلیمانی حکمت عملی پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر، وائس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین بھی موجود تھے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور ندیم افضل چن بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔
ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں سے پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہوکر فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاملے پر پی ٹی آئی چیئرمین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کا کہا۔
پیپلز پارٹی اور اپوزیشن قائدین نے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے متعلق معاملات پر باہمی رابطے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ انتخابی اصلاحات اور انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔
ملاقات میں عمران خان کی اسپتال منتقلی اور علاج کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہونے والی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے جمہوری روایت قرار دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا اور اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیے جائیں گے، جب کہ پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات خیرسگالی کا دورہ تھی۔
ملاقات کے بعد محمود خان اچکزئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کے مستقبل کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت چند دن کی مہمان ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جہاں بچھوؤں کا بل ہو، وہاں انگلیاں ڈالی جاتی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک بات بالکل طے ہے کہ مائنس عمران خان فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب عمران خان کی صحت اور انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے معاملے پر اسد قیصر اور جنید اکبر نے بھی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ملاقات میں پارلیمانی امور اور ملک کی سیاسی صورتِ حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔ ملاقات میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ بھی شریک ہوئے۔
ملاقات میں سابق پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل اسد عمر کی شرکت بھی سامنے آئی۔ اسد عمر پی ٹی آئی کے عہدے اور عملی سیاست سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں اور موجودہ قومی اسمبلی کے رکن بھی نہیں ہیں۔
ملاقات سے قبل اسد عمر سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان کی سیاست میں جو تبدیلی ہے اس کو آپ کیسے دیکھ رہے ہیں؟ اس پر اسد عمر نے جواب دیا کہ اللہ کرے کہ کسی اچھائی کا پیش خیمہ ہو۔
ان سے پھر سوال کیا گیا کہ کیا موجودہ سیاسی تبدیلیاں کسی بیک ڈور رابطوں کا نتیجہ ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ فی الحال تو عمران خان کی صحت کے معاملے پر توجہ مرکوز ہے۔
اسی دوران سردار ایاز صادق کے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بیک ڈور رابطوں کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہو رہے بل کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی تمام ممبران کا کسٹوڈین ہوتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق اسپیکر نے خود ملاقات کی درخواست کی تھی اور دیکھا جائے گا کہ وہ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔
ایک ہی روز میں ہونے والی ان ملاقاتوں، پارلیمانی معاملات پر مشاورت اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان رابطوں کی پیش کش نے اسلام آباد کے سیاسی ماحول میں غیر معمولی سرگرمی پیدا کردی ہے۔
اگرچہ ان رابطوں کو کسی باقاعدہ سیاسی مفاہمت یا نئی صف بندی سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا، تاہم موجودہ صورتِ حال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہِ راست رابطوں کا بڑھنا سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ضرور ہے۔
