عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر مرسی کی طرح ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی رات گئے ہسپتال میں کیا ہوا ؟ ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس ‘ الزامات


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ نے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھ کر شدید ذہنی اذیت (ٹارچر) کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 10 ماہ بعد ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس پر وہ خود بھی حیران رہ گئے۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے الزام عائد کیا کہ رات کی تاریکی میں انہیں نامعلوم مقام کی طرف لے جایا گیا، اندھیرے میں پہلے پمز اور پھر شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات تھے کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ کیا جائے گا، لیکن ان احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے ہسپتال میں صرف ان کی آنکھ کا معائنہ کیا گیا اور انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق، عمران خان نے انہیں بتایا کہ ان کے ساتھ بالکل وہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جو مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ انہیں پڑھنے کا مواد، ٹی وی اور انسانی رابطے سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی میں بانی پی ٹی آئی کی طبیعت خراب ہوئی، ان کے سر میں تکلیف تھی اور دل کی دھڑکن معمول سے بہت زیادہ تیز ہو گئی تھی مگر جیل کے ڈاکٹروں نے ان کی حالت پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی کوئی علاج کیا۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert