تحریک انصاف کے 27 ستمبر لانگ مارچ سے صرف دو روز قبل کسان اتحاد کا ملین مارچ کا اعلان
25 ستمبر کو ملک بھر سے کسان اسلام آباد راولپنڈی کی جانب مارچ کریں گے، راستے میں روکا گیا تو پیدل ہی دارالحکومت پہنچیں گے، وزیراعلیٰ مریم نواز سے استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے؛ کسان رہنماؤں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا اور کسانوں کے معاشی تحفظ کے لیے 25 ستمبر کو اسلام آباد میں ملین مارچ کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ اور مرکزی صدر عمیر مسعود نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی ناقص اور غلط حکمتِ عملی نے زراعت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جو پنجاب پورے ملک اور افغانستان کی خوراک کی ضروریات پوری کرتا تھا، آج اپنی گندم کی ضرورت کے لیے بھی بحران کا شکار ہے، مسلسل دو سال گندم کے کاشتکاروں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ حکومت نے خریدی کے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث کسانوں نے گندم کی کاشت میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کردی ہے۔
کسان رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ دور حکومت میں خاص طور پر پنجاب میں کسانوں پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں، ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور فصلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، علاوہ ازیں گنے، آلو، مکئی اور کپاس کے کاشتکار بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں، کسان کارڈ اور ٹریکٹر سکیمیں صرف نمائشی ہیں اور کسانوں کی اکثریت ان سہولیات سے محروم ہے۔
کسان اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ 25 ستمبر کو ملک بھر سے کسان اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب مارچ کریں گے، اگر انہیں راستے میں روکا گیا تو وہ پیدل ہی دارالحکومت پہنچیں گے اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، ہماری وزیراعظم سے اپیل ہے کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پنجاب کی زرعی پالیسیوں کا فوری جائزہ لیں تاکہ ملک کو خوراک کے بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔
