زرعی شعبے میں اصلاحات کا عمل تیز، وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی

اسلام آباد(ـقدرت رونامہ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی اصلاحات اور اس کی ترقی کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے، معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے اور زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے سرٹیفائیڈ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر درست تخمینوں کے لیے جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے تحقیق کے اداروں کو مزید فعال اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات کسانوں تک پہنچ سکیں۔
وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (NARC) کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے ماسٹر پلان کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے سات ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے۔
نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹرز آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریز، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی مراکز، نجی شعبے کے لیے ریسرچ پارک، بین الاقوامی تعاون کا مرکز، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک سمیت مختلف جدید سہولتیں قائم کی جائیں گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر عملدرآمد تیز کردیا گیا ہے۔ منصوبے میں کسانوں کے لیے مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی و ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعداد کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔
بریفنگ کے مطابق اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔
زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کے لیے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔
وزیراعظم نے چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلبہ و طالبات کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ہدایت کی، جبکہ رواں برس چین جانے والے طلبہ کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا۔
اجلاس میں ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کے لیے آرگینک زراعت کے فروغ کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی و معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام جاری ہے۔
اجلاس کو گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قومی سطح پر فصلوں کے تخمینوں کے لیے ایک جامع اور مؤثر نظام وضع کیا جائے۔
