توہینِ عدالت کی پٹیشن میں محسن نقوی کا نام کیوں نہیں؟ حامد میر کا اہم انکشاف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے پسِ پردہ ہونے والی اہم پیشرفت اور توہینِ عدالت کی درخواست میں محسن نقوی کا نام نہ ہونے کی اصل وجہ بتادی۔ دنیا نیوز کے پروگرام میں میزبان ثمر عباس سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے گئے تھے تو اس ملاقات کے دوران بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی کو بتایا کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے، اس پر محسن نقوی نے مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر عدالتی طریقہ کار اختیار کریں اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
حامد میر کے بقول، وزیر داخلہ محسن نقوی خود بھی اس بات سے بے خبر تھے کہ عمران خان کو پمز لے جایا جائے گا۔
اس رات جب عمران خان کو منتقل کیا گیا، محسن نقوی بیرسٹر گوہر کے ساتھ رابطے میں تھے اور رات آٹھ بجے بیرسٹر گوہر کو یہی بتایا گیا کہ عمران خان کو شفا ہسپتال ہی لایا جائے گا۔ تاہم… pic.twitter.com/4QXLyvdXq1— Mahrosh Pervaiz (@MahroshPervaiz1) August 23, 2026
حامد میر نے مزید انکشاف کیا کہ اس کے بعد محسن نقوی مسلسل بیرسٹر گوہر سے رابطے میں رہے اور عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی رات 8 بجے تک بیرسٹر گوہر کو یہی بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال ہی منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم آخری لمحے میں مسلم لیگ ن کے ایک مخصوص گروپ نے سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن اور شفاء ہسپتال کے باہر کارکنوں کے جمع ہونے کو بنیاد بناتے ہوئے عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کروایا۔
سینئر صحافی نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ چونکہ اس پورے معاملے میں محسن نقوی مسلسل تعاون اور رابطے میں تھے، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی جانے والی توہینِ عدالت کی درخواست میں ان کا نام فریق کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
