فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے، ملک پر اقلیت حکومت کررہی ہے، موجودہ حکومت جعلی ہے: مولانا فضل الرحمٰن
آرمی چیف آئینی حدود کا خیال رکھیں، پارلیمنٹ کے ذریعے تمام اختیارات ایک فرد کو دے دیے گئے: سربراہ جے یو آئی

بلوچستان میں باعزت لوگوں کی توہین کی گئی، صوبے توڑنے کا مقصد وسائل پر قبضہ ہے، محسن نقوی ایک ’چڑیا‘ ہیں: پشاور ورکرز کنونشن سے خطاب
پشاور (ڈیلی قدرت کوئٹہ): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پشاور میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت، مقتدرہ اور امن و امان کی صورتحال پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک پر اقلیت حکومت کررہی ہے، موجودہ حکومت مکمل طور پر جعلی ہے اور بدامنی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ حکومتی رٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
مقتدر حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم دفاعی قوت کے منکر نہیں لیکن فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے آرمی چیف کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ آرمی چیف اور فیلڈ مارشل ہیں لیکن آپ کو آئینی حدود کا خیال رکھنا ہوگا۔ کیا طاقتور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے چاہو گے ویسے کرو گے؟ ایسا نہیں چلے گا، ریاستی رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے 1971 کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے کہا گیا کہ ہم لڑیں گے اور اگلے دن ہتھیار ڈال دیے گئے۔ انہوں نے تنقید کی کہ ڈیفنس فورسز ایکٹ جلد بازی میں منظور کیا گیا جس کے تحت پارلیمنٹ کے ذریعے مقتدرہ، بحریہ، فضائیہ اور وفاقی حکومت کے تمام اختیارات صرف ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں۔ عوام اصل قوت ہیں جبکہ فوج صرف ایک ادارہ ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے انکشاف کیا کہ بلوچستان سے معززین کو بلا کر ان سے توہین آمیز گفتگو کی گئی، باعزت لوگوں کو ذلیل کیا جا رہا ہے اور دو ٹکے کے لوگوں کو ان پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ چھاؤنی کے قریب ہنہ اوڑک اور زیارت میں دہشت گردوں نے حملے کر کے لوگوں کو شہید کیا، کوئٹہ کراچی شاہراہ غیر محفوظ ہو چکی ہے اور بلوچستان میں اکیلے گاڑی میں سفر کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ علاقوں میں خونریزی اور پشتون علاقوں میں جنگ ہے، ہمیں کم از کم ٹھنڈی زمین پر امن تو دو۔ نئے صوبوں کی قیاس آرائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے توڑنے کا مقصد کہیں وسائل پر قبضہ تو نہیں؟
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف! پاکستان کی زمین خون سے سرخ ہے اور تم دنیا میں ریڈ کارپٹ کے لیے جاتے ہو۔ انہوں نے محسن نقوی کو ’’چڑیا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بلوچستان ایک تھانیدار کی مار ہے، تو جا کر اپنے تھانوں کی حالت دیکھو جہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کشمیر میں تین ماہ سے دھرنا جاری ہے مگر کوئی ان سے بات نہیں کر رہا، گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور تم بٹوارے کی بات کر رہے ہو۔ ملک میں جبر کا ماحول ہے اور اسلام طاقت کی بنیاد پر قوم پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ میں نے اپوزیشن لیڈر کو سمجھایا کہ اگر ہم بکھرے رہے تو اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے، یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اپوزیشن اتحاد بنایا گیا اور پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ میں اتحاد کیا۔ اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ ہم سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
