کوئٹہ کے نجی ہسپتالوں کی من مانی، ڈاکٹروں کی فیس اور ٹیسٹ کے نام پر عوام کی دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار عروج پر
پارکنگ اور دیگر سہولیات کا فقدان، نجی ہسپتالوں کی بھرمار نے شہر کو ٹریفک مسائل اور مشکلات میں دھکیل دیا

وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نجی ہسپتالوں کا نوٹس لیں ورنہ عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے: عوامی حلقوں کا انتباہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قائم نجی و پرائیویٹ ہسپتالوں نے بھی مان مانی شروع کردی ڈاکٹروں کی فیسوں میں دوگناہ جبکہ ٹیسٹ و ادویات میں بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں نجی ہسپتالوں کی بھر مار تو شروع ہے لیکن پارکنگ ودیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پورے کوئٹہ شہر نجی ہسپتالوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے صوبائی حکومت اور خاص کر وزیر صحت اس حوالے ایکشن لیکر نجی ہسپتالوں کے مالکان کو عوام کے ساتھ خوش اسلوبی اور ڈاکٹروں کی فیس میں کمی ساتھ میں ٹیسٹ ودیگر مراعات میں بھی شنوائی کیا جائے نہ ہونے کی صورت میں عوام نے نجی ہسپتالوں کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کردیا واضح رہے کہ اس وقت ایک طر ف تو سرکاری ہسپتالیں جہاں اربوں روپے فنڈز ملتا ہے وہاں عوام کی سہولت کیلئے کچھ نہیں ہے تاہم ڈاکٹرز پورے ہفتے میں ادھے گھنٹے آکر واپس چلے جاتے ہیں دوسری جانب جہاں کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں اگر چائنکی ہوٹل کے بعد نجی ہسپتال قائم ہوتے ہیں وہاں بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ شروع کیاہے کل تک800سو روپے فیس لینے والے ڈاکٹرز نے آج وہی فیس 2ہزار سے4ہزار روپے تک کردیا ہے ساتھ میں مختلف ٹیسٹ و ادویات کی مد میں بھی عوام کو نہیں بخشا اسی طرح نجی ہسپتال تو بن رہے ہیں لیکن مالکان کی جانب سے نہ تو پارکنگ ہے اور نہ ہی کوئی اسی چیز بنائی ہے جس سے عوام باآسانی ہسپتال آکر اپنے مریضوں کا دیکھ بھال کیا جاسکے عوامی حلقوں نے حکومت وقت اور خاص کر وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری ہسپتالوں پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ نجی ہسپتالوں کا بھی ہنگامی دورے کرکے جہاں عوام کی مشکلات درپیش ہے وہاں ان ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کیا جائے۔
