عمران خان سے متعلق فیصلہ آیا تو ن لیگ کی قیادت پریشان ہوگئی، منصور علی خان کا انکشاف


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار منصور علی خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر ن لیگ کی قیادت کی تشویش، حکومت کی سیاسی کمزوری اور علیمہ خان سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں کی حقیقت سامنے رکھ دی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے منصور علی خان نے انکشاف کیا کہ جب عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا تو مسلم لیگ ن کی اسلام آباد اور پنجاب کی قیادت شدید پریشانی کا شکار ہو گئی، ن لیگ کے رہنماؤں نے ان سے بھی رابطہ کیا اور جاننا چاہا کہ یہ سب کیسے ہوا کیونکہ وہ شدید خائف تھے کہ کہیں ان کے ساتھ کوئی ہاتھ تو نہیں ہو رہا۔

اس ضمن میں منصور علی خان مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ پنڈی یعنی عسکری قیادت کی جانب سے ن لیگ کی قیادت کو بار بار یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ یہ کوئی ڈیل نہیں ہے اور ایسی کوئی بات نہیں، لیکن ن لیگ اب بھی اس معاملے کو گہری شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جب کہ دوسری طرف شفاء ہسپتال کے باہر موجودہ حکومت اتنی سیاسی طور پر کمزور اور نڈھال ہو چکی ہے کہ ان سے 4 یوٹیوبرز اور 6، 7 سیاسی کارکن بھی نہیں سنبھالے جا رہے، جو کہ ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ علیمہ خان کے بارے میں عمران خان نے کوئی سخت بات کی، علیمہ خان کراچی میں مصروفیت کی وجہ سے پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکیں، تاہم وہ فون پر آخری وقت تک اپنی بہنوں کے ساتھ مکمل رابطے میں تھیں، وہ منگل کے روز عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل بھی جائیں گی، صحافت سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے اور بغیر تصدیق کے فیڈڈ خبریں چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert