وردی پر ہاتھ ڈالنے اور پھر اسے سیلیبریٹ کرنے والا جتھہ ہم نے تو نہیں بنایا تھا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سربراہ عوام راج پارٹی اقرارالحسن نے سرحد یونیورسٹی واقعے پر ردعمل میں کہا کہ ن لیگی دوست اور نئے ففتھئیے ہمیں کیوں گالیاں دے رہے ہیں؟ وردی پر ہاتھ ڈالنے اور پھر اسے سیلیبریٹ کرنے والا جتھہ ہم نے تو نہیں بنایا تھا؟ آپ نے ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام پر انہیں تخلیق کیا اور آپ ہی اب اس کے “مزے” لے رہے ہیں، انجوائے۔
اپنے دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ رکھیں دل پر ہاتھ اور بتائیں کہ اگر تحریک عدم اعتماد نہ ہوئی ہوتی، خان صاحب کی دوسری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ آج بھی ایک پیج پر ہوتے تو کیا تب بھی ن لیگ کے دوست ایسے ہی کرنل صاحب کا دفاع کر رہے ہوتے؟ اور کیا تب بھی پی ٹی آئی کے دوست ایسے ہی کرنل صاحب کو مطعون ٹھہرا رہے ہوتے؟ 2020 میں کرنل کی بیوی پولیس والوں پر ناراض ہوئی تھی تو اُس ویڈیو پر یہی ن لیگ والے بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور یہی پی ٹی آئی والے اُسے مظلوم ثابت کر رہے تھے۔
آج اُس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصول کی بات نہیں کرتے۔ ہماری حکومت میں جو ایک چیز عین حلال ہوتی ہے، دوسرے کی حکومت میں بعینہٖ وہی بات کلیتہً حرام ہوتی ہے۔ ہم شخصیت پرست، اندھ بھگت بن چکے ہیں، ہمارا ضمیر، ہماری سوچ، فکر اور رائے دوسروں کے مفاد اور اقتدار کی غلام بن چکی ہے اور ہم نے اسی کو “شعور” سمجھ لیا ہے۔
