عمران خان کو جیل میں طویل عرصے تک رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، قاسم خان
واضح ہے کہ یہ لوگ عمران خان جیل میں ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں زیادہ سے زیادہ عرصے تک قید رکھنا چاہتے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ ایک دن ان کی آواز کو خاموش کر دیں گے، اسکائی اسپورٹس کو انٹرویو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے کہا ہے کہ جب ان کے والد پہلی بار جیل گئے تو انہیں توقع تھی کہ وہ کچھ عرصے بعد جیل سے باہر آ جائیں گے اور پاکستان میں صورتحال تبدیل ہو جائے گی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ طول پکڑتا گیا اور خاندان کو بے بسی کا احساس ہونے لگا۔ اسکائی اسپورٹس کو انٹرویو دیتے ہوئے قاسم خان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان پہلی بار جیل گئے تو وہ اس بات کے عادی تھے کہ ان کے ساتھ غیر معمولی اور خطرناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔
کبھی وہ کسی پلیٹ فارم کی بلندی سے گر جاتے تھے اور کبھی ان پر قاتلانہ حملے کی متعدد کوششیں ہوتی تھیں۔
”جب ابّا جیل گئے تو ہمیں لگا کہ شاید یہ صرف چند دنوں کی بات ہوگی، لیکن وقت گزرتا گیا اور یہ معاملہ مسلسل طول پکڑتا گیا۔ پھر ہمیں محسوس ہوا کہ اگر ہم کوئی فرق ڈال سکتے ہیں تو شاید یہی وقت ہے اور اب تو واقعی لگتا ہے کہ ہمیں کچھ کرنا چاہیے، کیونکہ واضح ہے کہ وہ انہیں جیل میں ختم… pic.twitter.com/TQMSN0bm7U
— PTI Islamabad (@PTIOfficialISB) August 27, 2026
انہوں نے کہا کہ اسی لیے جب عمران خان پہلی بار جیل گئے تو انہیں لگا کہ شاید وہ کچھ ہی عرصے کے لیے جیل میں رہیں گے اور پھر پاکستان میں اکثر کی طرح صورتحال بدل جائے گی۔
قاسم خان کے مطابق وقت گزرتا گیا اور معاملہ مسلسل طول پکڑتا گیا، جس سے انہیں زیادہ سے زیادہ بے بسی کا احساس ہونے لگا۔
جب اخبارات میں بھی عمران خان کا ذکر تقریباً ختم ہوگیا، لیکن وہ بدستور جیل میں موجود تھے، تو انہوں نے سوچا کہ اگر وہ کسی بھی طرح کوئی فرق ڈال سکتے ہیں تو شاید اب قدم اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس سے انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ اب ان کے والد کو جیل میں رکھنے کے معاملے میں کوئی حکمت عملی چھپائی نہیں جا رہی۔ قاسم خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو کھلم کھلا وہیں جیل میں رکھنے اور شاید انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مقصد انہیں زیادہ سے زیادہ عرصے تک جیل میں رکھنا اور بالآخر خاموش کر دینا ہے۔
