’پی ٹی آئی کے احتجاج میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تو حکومت کیلئے صورتحال قابو کرنا مشکل ہوگا‘
پی ٹی آئی والے تو20 اور 40 لاکھ بندوں کا کہہ رہےہیں، اگر ڈھائی،تین لاکھ بندہ بھی آگئےتوپھروہ قابونہیں آتے، حکومت چاہے جتنی مضبوط ہو پریشر حکومتوں پر ہوتا ہے اور یہ حکومت ویسے بھی لڑکھڑا رہی ہے، تجزیہ کار منیب فاروق

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ خیبر پختونخوا سے صرف دو، ڈھائی یا تین لاکھ افراد بھی اسلام آباد کی جانب آنے والے کسی قافلے میں شریک ہوگئے تو انہیں روکنا حکومت اور انتظامیہ کے لیے انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ اپنے ویلاک میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 20 لاکھ اور 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ پانچ لاکھ افراد کے رجسٹرڈ ہونے کا بھی دعویٰ سامنے آچکا ہے۔
اگر کسی قافلے میں دو، ڈھائی یا تین لاکھ افراد بھی آجائیں تو پھر اسلام آباد پولیس یا کوئی دوسرا ادارہ انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ ماضی میں 50 ہزار افراد کے ہجوم کو قابو کرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا، اس لیے اگر اس سے کئی گنا بڑا مجمع اسلام آباد پہنچتا ہے تو صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بظاہر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ 27 ستمبر کو ہونے والے ممکنہ احتجاج یا پی ٹی آئی کے کارکنوں کی آمد سے اسے کوئی خاص پریشانی نہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت پر سیاسی دباؤ موجود رہتا ہے۔
پی ٹی آئی تو20 اور 40 لاکھ بندوں کاکہہ رہےہیں،لیکن اگر ڈھائی،تین لاکھ بندہ بھی آگئےتوپھروہ قابونہیں آتے،یاد رکھیں حکومت چاہے جتنی مضبوط ہو پریشر حکومتوں پر ہوتا ہے اور یہ حکومت ویسے بھی لڑکھڑا رہی ہے،منیب فاروق@muneebfaruqpak pic.twitter.com/lna8422ifo
— Ali Tanoli (@alitanoli889) August 31, 2026
تجزیہ کار نے کہا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور مختلف مسائل کے باعث حکومت دباؤ میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی پاکستان کے معاشی مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سیاسی بات چیت کا سلسلہ آگے نہ بڑھا اور بڑی تعداد میں کارکن اسلام آباد پہنچ گئے تو اس کے اثرات کاروبار اور معیشت پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اگر حالات احتجاج سے آگے بڑھ کر کسی بڑے عوامی ردعمل یا ’’انقلاب‘‘ کی شکل اختیار کرگئے تو پھر صورتحال کسی کے قابو میں نہیں رہے گی اور حکومت کو ہنگامی نوعیت کے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
