وزیروں نے اینکر اور اپوزیشن بننے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، رؤف کلاسرہ کی تنقید
وزیر بن کر گفتگو ایسے کرتے ہیں جیسے اپوزیشن لیڈر یا ٹی وی اینکر یا صحافی ہوں، ان کا دور دور تک حکومت یا اس کی نالائقیوں سے کچھ لینا دینا نہیں، ڈائیلاگ ڈیلیوری پر انہیں آسکر ایوارڈ دینا چاہیئے؛ صحافی کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرہ نے پمز ہسپتال کے حالیہ معاملے پر وفاقی وزیرِ ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک کے بیان اور گفتگو کے انداز پر سخت اور طنز آمیز تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے رؤف کلاسرہ کا کہنا ہے کہ پمز ہسپتال کی ناقص صورتحال اور انتظامی مسائل پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی گفتگو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں بہترین ڈائیلاگ ڈیلیوری پر آسکر ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے، ان کے بیان اور اندازِ گفتگو کو دیکھ کر کہیں سے بھی یہ نہیں لگتا کہ وہ خود اس حکومت کا حصہ ہیں یا یہ تمام تر انتظامی ناکامی اور نالائقی ان کی اپنی حکومت کی ہے۔
وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک کی پمز پر گفتگو سنیں تو آپ کا دل کرے گا انہیں ڈائیلاگز ڈیلیوری پر آسکر ایوارڈ دیا جائے۔ کہیں سے نہیں لگتا وہ حکومت ہیں اور یہ ان کی حکومت کی ناکامی ہے۔وزیروں نے اب یہ نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ وزیر بن کر بھی گفتگو ایسے کرتے ہیں جیسے وہ اپوزیشن لیڈر… pic.twitter.com/qvZzaUjuBv
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) September 1, 2026
سینئر صحافی نے موجودہ حکومتی وزراء کے رویے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء نے اب یہ ایک نیا اور عجیب طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ حکومت اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بھی اس طرح گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ کوئی اپوزیشن لیڈر، ٹی وی اینکر یا صحافی ہوں، وزراء اپنے بیانات میں ایسا تأثر دیتے ہیں جیسے حکومت کی خرابیوں، ناقص کارکردگی اور نالائقیوں سے ان کا دور دور تک کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔
