رمیز راجہ کا کیس خراب ہوگیا، بڑی مشکل میں پڑیں گے، سینیٹر افنان اللہ کی وارننگ
عمران خان کے حوالے سے ایک منظم مہم شروع کی گئی، جو صہیونی لابی نے شروع کی، جس میں ان کے اہم کارندے رمیز راجہ بھی شامل ہوگئے، ہم اب ان کی حرکتیں برداشت نہیں کریں گے؛ مسلم لیگ ن کے رہنماء کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سینیٹر افنان اللہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے حق میں بین الاقوامی سطح پر ایک منظم مہم شروع کی گئی ہے، جس میں صہیونی لابی اور اس کے اہم کارندے رمیز راجہ شامل ہیں۔
مختلف انٹرویوز میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو سیاسی اور عالمی سطح پر سہارا دینے کے لیے ایک خاص مہم کا آغاز کیا گیا ہے، اس مہم کو اصل میں صہیونی لابی کی پشت پناہی حاصل ہے اور بدقسمتی سے رميز راجہ بھی اس لابی اور مہم کے اہم کارندے کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔
عمران خان کے حوالے سے ایک منظم مہم شروع کی گئی، جو صہیونی لابی نے شروع کی، جس میں ان کے اہم کارندے رمیز راجہ بھی شامل ہو گئے۔ رمیز راجہ کا کیس بڑا خراب ہو گیا ہے، یہ کسی دن بڑی مشکل میں پڑیں گے ۔ ہم اب ان کی حرکتیں برداشت نہیں کریں گے۔ سینیٹر افنان اللہ pic.twitter.com/0EaTnqOe0W
— WE News (@WENewsPk) September 1, 2026
حکمران جماعت کے سینیٹر نے سابق کرکٹر کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ رمیز راجہ کا کیس اب بہت خراب ہو چکا ہے اور وہ ان حرکتوں کی وجہ سے کسی بھی دن انتہائی بڑی قانون و سیاسی مشکل میں پھنس سکتے ہیں، مسلم لیگ ن اور حکومت اب ان کی اس قسم کی سرگرمیوں کو کسی صورت مزید برداشت نہیں کرے گی۔
رمیز راجہ نہ تو کمنٹیٹر اچھے ہیں نہ یہ پلیئر اچھے تھے اور نہ ہی یہ انسان اچھے ہیں، یہ کمنٹری بھی ایسی کرتے ہیں جس سے ملک کو شرمندگی ہوتی ہے، ایسے بندے کو لایا جانا چاہیئے جو ملک کا مفاد سیکور کرسکے، سینیٹر افنان اللہ ۔۔ pic.twitter.com/c18RYu0tku
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) August 31, 2026
رمیز راجہ کی ذاتی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ نے مزید کہا کہ رمیز راجہ نہ تو ماضی میں اچھے کھلاڑی تھے، نہ وہ ایک اچھے کمنٹیٹر ہیں اور نہ ہی وہ ایک اچھے انسان ثابت ہوئے ہیں، رمیز راجہ دورانِ کمنٹری بھی ایسی باتیں اور تبصرے کرتے ہیں جس سے عالمی سطح پر ملک کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کھیل اور بورڈ کے معاملات میں ایسے افراد کو آگے لایا جانا چاہیے جو ذاتی اور سیاسی مفادات کے بجائے ملک و قوم کا مفاد محفوظ کر سکیں۔
