بدامنی، دہشت گردی، بارڈرز اور شاہراہوں کی بندش کے خلاف کل بلوچستان میں مکمل شٹر ڈان ہوگا ‘ حکمران اور سیکیورٹی ادارے عوام کی تباہی و بربادی کا تماشہ دیکھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ہدایت الرحمن بلوچ
بارڈرز اور اہم شاہراہوں کی بندش سے کاروباری سرگرمیاں متاثر، ہزاروں خاندانوں کے معاشی حالات مزید خراب

مبینہ بھتہ خوری ناقابل قبول، امن، روزگار اور محفوظ مستقبل کے لیے متحد ہونے کی اپیل
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ 3 ستمبر کو ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی امن، بدامنی، دہشت گردی، بارڈرز اور شاہراہوں کی بندش جبکہ پٹرولیم مصنوعات سے وابستہ کاروبار میں مبینہ بھتہ خوری کے خلاف تاجروں اور دکانداروں کے تعاون سے شٹر ڈان ہڑتال کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے صوبائی اور ضلعی ذمہ داران نے مختلف اضلاع میں تاجر تنظیموں کے قائدین سے ملاقاتیں کرکے ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے، جبکہ تاجروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ہڑتال کسی ایک جماعت یا گروہ کی نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ قومی آواز ہوگی۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کا ہر شہری امن کا خواہاں ہے، بدامنی، مہنگائی اور دہشت گردی نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ ان شا اللہ 3 ستمبر کو بلوچستان کے تمام شہروں میں مکمل شٹر ڈان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکمران اور سیکیورٹی ادارے عوام کی تباہی و بربادی کا تماشہ دیکھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مثر اقدامات اٹھائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجروں اور دکانداروں کے وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو اور 3 ستمبر کی شٹر ڈان ہڑتال کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکریٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امیر صوبہ مولانا عارف دمڑ، امیر ضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند اور دیگر ذمہ داران نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں اور تجارتی مراکز کا دورہ کیا، دکانداروں اور تاجروں سے ملاقاتیں کیں اور ہڑتال کے حوالے سے ہینڈ بلز تقسیم کیے۔ اس موقع پر تاجروں اور دکانداروں نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے 3 ستمبر کو مکمل شٹر ڈان کی یقین دہانی کرائی۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، روزگار اور باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، مگر آئے روز بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، لوٹ مار اور دہشت گردی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بارڈرز اور اہم شاہراہوں کی بندش سے کاروباری سرگرمیاں متاثر اور ہزاروں خاندانوں کے معاشی حالات مزید خراب ہوئے ہیں، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور کاروبار سے وابستہ افراد سے مختلف ناموں پر مبینہ بھتہ وصولی ناقابل قبول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 3 ستمبر کی شٹر ڈان ہڑتال حکمرانوں کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق، امن، روزگار اور محفوظ مستقبل کے لیے ایک پرامن اور جمہوری آواز ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جائے، بدامنی کے خاتمے، بارڈرز اور شاہراہوں کو محفوظ بنانے، قانونی تجارت کی بحالی اور مبینہ بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے تاجروں، دکانداروں، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹرز اور تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ 3 ستمبر کی شٹر ڈان ہڑتال کو کامیاب بنا کر امن، روزگار اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہونے کا ثبوت دیں۔
