سول اور فوجداری کارروائی! وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ سامنے آگیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وفاقی آئینی عدالت کا سول اور کرمنل (فوجداری) کارروائی کے حوالے سے اہم فیصلہ سامنے آگیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور کرمنل (فوجداری) کارروائی بیک وقت نہیں چلائی جا سکتی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح متضاد فیصلے سامنے آنے کا خدشہ ہوتا ہے جس سے پورا نظامِ انصاف متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ فیصلہ سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسربنوں کے کیس میں دیا گیا، جسے جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی ملکیتی تنازع یا دستاویزات کی اصل و نقل کا معاملہ سول عدالت میں زیر التوا ہو تو فوجداری عدالت سول فیصلے کا انتظار کرے گی۔

آئینی عدالت کا کہنا تھا کہ سرٹیفکیٹس کی قانونی تصدیق سے قبل درخواست گزاروں کے خلاف کوئی انتظامی یا فوجداری کارروائی نہیں کی جائے گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سول عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد ہی کسی قسم کی کرمنل یا انتظامی کارروائی کا آغاز ممکن ہوگا اور محض فوجداری کارروائی سے بچنے کے لیے بدنیتی کی بنیاد پر دائر سول مقدمے کو کارروائی روکنے کی وجہ نہیں بنایا جائے گا۔

عدالت نے مزید کہا جہاں دونوں مقدمات کا آپس میں گہرا تعلق ہو، وہاں کیس کے حالات اور انصاف کی فراہمی کے مطابق فوجداری کارروائی کو ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert