’عوامی ایکشن کمیٹیوں نے نوجوانوں کو فورسز پر حملوں کے لیے اکسایا‘، ترجمان آزاد کشمیر پولیس ایس ایس پی خاور علی شوکت کی پریس کانفرنس

راولاکوٹ(قدرت روزنامہ)آزاد جموں و کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض عناصر نے نام نہاد پرامن تحریک کی آڑ میں نوجوانوں کو سیکیورٹی فورسز کے خلاف اکسانے اور ان پر حملوں کی ترغیب دی۔ ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس ایس ایس پی راولا کوٹ خاور علی شوکت نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایک گرفتار شخص کے موبائل فون سے فورسز پر حملوں، مسلح افراد اور مختلف اجلاسوں کی ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں، جو ان عناصر کی سرگرمیوں سے متعلق اہم شواہد ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق عبداللہ نامی ایک نوجوان کو جنرل چیکنگ کے دوران گرفتار کیا گیا اور اس کے موبائل فون کی تلاشی کے دوران متعدد ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں۔ ان میں مسلح افراد کے ساتھ بنائی گئی تصاویر، فورسز پر حملوں سے متعلق ویڈیوز اور مختلف اجتماعات اور اجلاسوں کی ریکارڈنگ شامل ہے۔

ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا کہ گرفتار شخص سے برآمد ہونے والے شواہد اور اس کے اعترافی بیان کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض شرپسند عناصر نے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا کر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی ویڈیوز سے مبینہ طور پر واضح ہوتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹیوں سے وابستہ عناصر نوجوان نسل کو فورسز کے خلاف اکسانے کے ساتھ ساتھ ان پر حملوں کی ترغیب بھی دیتے رہے۔

گرفتار نوجوان کا اعترافی بیان
پولیس ترجمان کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران گرفتار نوجوان عبداللہ کے اعترافی بیان پر مشتمل ویڈیو بھی چلائی گئی جس میں گرفتار شخص کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’اس کا تعلق منگ سے ہے اور وہ طالب علم ہے۔ اس کے مطابق موبائل فون سے ملنے والی تصاویر میں سے بعض اسلحہ رکھنے والے دوستوں کے ساتھ بنائی گئی تھیں‘۔

عبداللہ نے بتایا کہ ’اس نے درموں کے علاقے میں بعض لوگوں کے پاس بڑی تعداد میں اسلحہ دیکھا اور وہاں تصاویر بھی بنائیں‘۔

اس کے موبائل فون سے ایسی ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں ایک تحریک کے اجتماعات دکھائی دیتے ہیں، جہاں لوگ نماز ادا کر رہے ہیں اور بعض افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ ملزم کے اعترافی بیان اور موبائل فون سے برآمد ہونے والے مواد کا جائزہ لینے سے ان سرگرمیوں کے پس پردہ مقاصد کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مواد اس دعوے کے برعکس ہے کہ مذکورہ سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن نوعیت کی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert