اسٹیبلشمنٹ کے اتنے برے دن نہیں آئے کہ مجھ جیسے عام بندے کے ذریعے پی ٹی آئی سے تعاون مانگے

لاہور (قدرت روزنامہ) صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اتنے برے دن نہیں آئے کہ مجھ جیسے عام بندے کے ذریعے پی ٹی آئی سے تعاون مانگے، صوبوں کیلئے تعاون لینا ہوا تو ڈنڈے کے زور پر بھی لے لیں گے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ جیسے مسلم لیگ ن نے عمران خان کے دور میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن میں سپورٹ کیا، تو میاں نوازشریف بیرون ملک چلے گئے، حالانکہ ن لیگ کو رگڑے لگ رہے تھے لیکن پھر بھی ن لیگ نے ساتھ اور قانون بن گیا۔
اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تجزیہ کیا تھا کہ صوبوں کیلئے اگر پیپلزپارٹی ساتھ نہیں دیتی تو دوتہائی اکثریت نہیں ہوسکتی، اس لئے پی ٹی آئی ساتھ دے سکتی ہے اور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کوئی آفر ہے تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں عام آدمی ہوں میرے ذریعے پی ٹی آئی سے کوئی تعاون لیا جائے، کیونکہ انہوں نے تعاون لینا ہوا تو معذرت کے ساتھ ڈنڈے کے زور پر بھی لے لیں گے۔
اور پوری پی ٹی آئی سپورٹ کرے گی، پوری پی ٹی آئی پاؤں میں بیٹھی ہوئی ہے کہ پاؤں رکھنے کی بس جگہ دے دیں۔عمران خان کو اشارہ مل جائے کہ اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرسکتے ہیں تو عمران خان فوری کہیں گے کہ جاؤ ترمیم کیلئے ووٹ کرو، نئے صوبے بننے سے ہمارا کیا چلا جاتا ہے؟ عمران خان سے ابھی تک کسی نے کوئی تعاون نہیں مانگا۔ اپنے ایک اور وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ میں یہ بتا دوں کہ نئے یونٹ بنانا جن کی خواہش ہے انہوں نے پانچواں گیئر ضرور لگایا ہوا ہے، نئے صوبائی یونٹ بنانے کیلئے اگر صوبوں کی مرضی ختم کرنی ہے تو آئین کے آرٹیکل 239/4 میں حکومت کو ترمیم کرنا پڑے گی۔
آئین کے آرٹیکل 239/4 میں لکھا ہے کہ اگر فیڈریٹنگ یونٹ یا صوبہ بناناہے تو اسی صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے۔۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس اوورویلمنگ میجورٹی ہے سندھ میں ۔وہ انکار کر رہی ہے۔ تو پھر آرٹیکل 239/4 میں حکومت کو ترمیم کرنی پڑے گی، اور صوبے کا رول ہی نکالنا پڑے گا۔
