صوبے میں سویلین اتھارٹی کو مفلوج کرنے اور اختیارات غیر سویلین فورسز کو منتقل کرنے کی شدید مذمت: پشتون قومی جرگہ

معدنیات کے نام پر لاکھوں ایکڑ زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ مسترد، جبری گمشدگیوں اور شناختی کارڈز کی بندش کا سلسلہ روکا جائے: جرگہ کا متفقہ اعلامیہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی دعوت پربنوں جرگہ منعقدہ11تا 14مارچ 2022کے فیصلوں کی روشنی میں 31,30اگست اور یکم ستمبر 2026کو کوئٹہ میں جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قوم کا جرگہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے جرگہ کی متفقہ قراردادوں کی منظوری لی۔ جنوبی پشتونخوا کے عوام کے اس تین روزہ نمائندہ جرگے میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، وکلائ، نوجوانوں، خواتین، مزدوروں، کسانوں، تاجروں، صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے ملک، بالخصوص پشتون علاقوں کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان، معاشی، سماجی اور قومی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ جرگہ شرکاء کی تقاریر، آراء اور تجاویز کی روشنی میں درج ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرتا ہے۔ جرگہ اپنے تین روزہ اجلاس کو کامیاب، بامقصد اور بھرپور بنانے پر تمام معزز شرکائ، سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، وکلائ، نوجوانوں، خواتین، کارکنوں، صحافیوں اور معاونین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے اور ان کے قومی جذبے، سیاسی شعور اور جمہوری عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔،جرگہ جنوبی پشتونخوا، بالخصوص دکی، ہرنائی، زیارت، کوئٹہ، ہنہ اوڑک، مانگی، منگلہ، پشین، سرانان، سرہ غوڑگئی، زیارت کراس، قلعہ عبداللہ خان، تحصیل گلستان، ملیزئی، محمدزئی اور میزئی اڈہ سمیت مختلف علاقوں میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، پر تشدد قتل وغارت کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار اور ہر قسم کی دہشت گردی، انتہاپسندی، پراکسیز، مسلح کارروائیوں، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور ریاستی و غیر ریاستی تشدد کی دوٹوک مذمت کرتا ہے۔جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری کے طور پر یقینی بنایا جائے اور دہشت گردی و جرائم کے خاتمے کے لیے قانون کے مطابق بلاامتیاز، مؤثر اور مستقل کارروائی کی جائے۔،جرگہ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ چمن، کوئٹہ ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ تفتان ،کوئٹہ زیارت اور کوئٹہ ہرنائی سمیت صوبے کی اہم شاہراہوں پر بڑھتی ہوئی بدامنی کی شدید مذمت کرتا ہے، جہاں مال بردار گاڑیوں کو جلانے اور لوٹنے، مسافروں کو لوٹنے اور قتل کرنے اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام قومی شاہرات اور تجارتی راستوں کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے، مسافروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مؤثر تحفظ دیا جائے اور شاہرات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔،جرگہ متفقہ آئینِ پاکستان کو ریاست اور اس کی تمام اکائیوں کے درمیان بنیادی عمرانی معاہدہ قرار دیتے ہوئے اس کی بالادستی اور مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔ ریاست کے تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنائی جائے، جمہوری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا کی آزادی کا احترام کیا جائے۔جرگہ عوام کے حقیقی سیاسی مینڈیٹ کے احترام اور آزاد، منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابات کو جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت قرار دیتا ہے۔،جرگہ صوبے میں سویلین اتھارٹی کو مفلوج کرنے اور آئینی و انتظامی اختیارات غیر سویلین یا نیم پیرا ملٹری فورسز کو منتقل کرنے کے رجحان کی مذمت کرتا ہے۔ منتخب حکومت اور سویلین انتظامیہ کے آئینی اختیارات فوری طور پر بحال کیے جائیں اور تمام ادارے اپنے آئینی و قانونی دائرہ اختیار میں رہیں۔جرگہ لیویز فورس کو اس کی قانونی و انتظامی حیثیت میں بحال، مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیویز کو جدید تربیت، مواصلاتی نظام، ضروری آلات، گاڑیاں اور مناسب اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ مقامی حالات اور جغرافیہ سے واقف اس فورس کو مؤثر امن و امان کے لیے استعمال کیا جا سکے۔،جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ پشتون عوام کے بنیادی، آئینی، سیاسی، معاشی، ثقافتی اور قومی حقوق کو تسلیم اور عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔ پشتون…

WhatsApp
Get Alert