بلوچستان اسمبلی: اپوزیشن کے مطالبے اور اعتراضات کے باوجود انسدادِ دہشت گردی ترمیمی مسودہ قانون منظور

قانون کی منظوری میں اتنی جلدی کیوں کی جارہی ہے؟ وزیر داخلہ عجلت کی وجہ بتائیں: اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری


اہم نوعیت کے قانون کو بغیر تفصیلی غور و خوض فوری منظور کرنے کے بجائے قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے: قائد حزب اختلاف کا مطالبہ
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اسپیکر کیپٹن (ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے انسدادِ دہشت گردی بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا۔مسودہ قانون پیش کیے جانے پر قائدِ حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری نے مطالبہ کیا کہ ترمیمی مسودہ قانون کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے اور ارکان کو قانون کے مختلف پہلوں پر غور کا موقع ملے۔اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے سوال کیا کہ قانون کی منظوری میں اتنی جلدی کیوں کی جارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بتایا جائے کہ وزیر داخلہ کو اس قانون کی منظوری میں اتنی عجلت کیوں ہے۔میر یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ اہم نوعیت کے قانون کو بغیر تفصیلی غور و خوض کے فوری طور پر منظور کرنے کے بجائے متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بھیجا جانا چاہیے تاکہ اس پر جامع بحث ہوسکے۔تاہم اپوزیشن کی جانب سے مسودہ قانون قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کے مطالبے کے باوجود بلوچستان اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون پر رائے شماری کرائی، جس کے بعد ایوان نے اسے منظور کرلیا۔

WhatsApp
Get Alert