نیا صوبہ بنا تو وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ بھکر کے عوام نے اہم نام تجویز کردیئے

لاہور (قدرت روزنامہ)مجوزہ نئے صوبے کے قیام کی بحث ایک بار پھر سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی موضوعِ گفتگو بن گئی ہے۔ بھکر کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جنوبی پنجاب اور وسیب کے علاقوں پر مشتمل نیا صوبہ قائم ہوتا ہے تو اس کی قیادت بھی اسی خطے سے تعلق رکھنے والی کسی تجربہ کار اور بااثر سیاسی شخصیت کے سپرد کی جانی چاہیے۔
بھکر کے عوامی حلقوں میں ممکنہ وزیراعلیٰ کے لیے شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی، مخدوم جاوید ہاشمی اور چیئرمین وسیب تحریک آصف خان سمیت دیگر سیاسی شخصیات کے نام زیرِبحث آئے ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی شخصیت کی وزیراعلیٰ کے طور پر کوئی باقاعدہ نامزدگی نہیں ہوئی بلکہ یہ نام عوامی رائے اور ممکنہ سیاسی منظرنامے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نیا صوبہ وجود میں آتا ہے تو سب سے اہم سوال صرف نئے صوبے کی حدود کا نہیں بلکہ اس کی قیادت کا بھی ہوگا۔ ان کے مطابق جس خطے کو طویل عرصے سے انتظامی اور معاشی محرومیوں کا سامنا رہا ہے، اس کے عوام کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ صوبے کی قیادت مقامی مسائل، جغرافیہ، وسائل اور عوامی ضروریات سے واقف شخصیت کے ہاتھ میں ہو۔
عوامی حلقوں کے مطابق نئے صوبے کا وزیراعلیٰ ایسا شخص ہونا چاہیے جو پورے خطے کو ساتھ لے کر چل سکے مختلف اضلاع کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرے۔
ممکنہ ناموں میں شاہ محمود قریشی کا نام بھی نمایاں طور پر لیا جا رہا ہے ملتان سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اسی وجہ سے بعض شہری انہیں نئے صوبے کی قیادت کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔
عوامی رائے رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر نیا صوبہ قائم ہوتا ہے تو سیاسی تجربہ رکھنے والی ایسی شخصیت جو وسیب کی سیاست اور مسائل سے واقف ہو ابتدائی مرحلے میں انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
سابق وزیراعظم اور موجودہ اہم سیاسی رہنما یوسف رضا گیلانی کا نام بھی بھکر کے عوام کی تجویز کردہ شخصیات میں شامل ہے۔ ان کا تعلق ملتان سے ہے اور وہ طویل سیاسی و پارلیمانی تجربہ رکھتے ہیں۔
عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ نئے صوبے کے قیام کی صورت میں تجربہ کار سیاسی قیادت انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مددگار ہوسکتی ہے۔
مخدوم جاوید ہاشمی بھی وسیب سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور بھکر کے بعض شہری انہیں ممکنہ صوبائی قیادت کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔
اسی طرح چیئرمین وسیب تحریک آصف خان کا نام بھی عوامی سطح پر تجویز کیا گیا ہے ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے کے قیام کی جدوجہد اور وسیب کے حقوق کے حوالے سے متحرک رہنے والی شخصیات کو بھی مستقبل کی صوبائی قیادت میں کردار ملنا چاہیے۔
بھکر کے شہریوں کے مطابق نئے صوبے کا قیام محض نقشے پر ایک نئی حد بندی کا نام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر انتظامی سہولیات روزگار تعلیم، صحت انفراسٹرکچر اور اپنے وسائل تک مؤثر رسائی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑے صوبے میں دور دراز علاقوں کے مسائل فوری طور پر اعلیٰ حکام تک نہیں پہنچ پاتے، جس کے باعث عوامی محرومیاں بڑھتی ہیں۔ نئے صوبے کی صورت میں مقامی سطح پر فیصلہ سازی قریب آنے سے ان مسائل کے حل کی رفتار بہتر ہوسکتی ہے۔
سیاسی طور پر دیکھا جائے تو نئے صوبے کے قیام کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کی تشکیل اور آئینی و سیاسی عمل کے ذریعے ہوگا۔ اس لیے فی الحال کسی بھی شخصیت کو حتمی امیدوار یا ممکنہ وزیراعلیٰ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
تاہم بھکر کے عوام کی جانب سے مختلف سیاسی شخصیات کے نام سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نئے صوبے کی بحث میں اب صرف صوبے کے قیام ہی نہیں بلکہ اس کی ممکنہ قیادت اور انتظامی مستقبل پر بھی عوامی سطح پر گفتگو شروع ہوگئی ہے۔
بھکر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نیا صوبہ قائم ہوتا ہے تو اس کی قیادت ایسے فرد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو وسیب کے عوام کی محرومیوں کو سمجھتا ہو، خطے کے تمام اضلاع کو مساوی اہمیت دے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔
یوں نئے صوبے کی صورت میں وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ یہ سوال ابھی سیاسی طور پر کھلا ہوا ہے لیکن بھکر کے عوام نے اپنی ترجیحات ضرور واضح کردی ہیں کہ صوبے کی باگ ڈور وسیب سے تعلق رکھنے والی بااثر، تجربہ کار اور عوامی مسائل سے واقف شخصیت کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔
