اے آئی کا نیا ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا آگیا، اب پیچیدہ کام بھی خود انجام دے گا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اوپن اے آئی نے اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا متعارف کرا دیا، جسے کمپنی نے پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دینے کے لیے اب تک کا سب سے قابل ماڈل قرار دیا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی 6 آسٹرا کمپیوٹر استعمال، ویب براؤزنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، سائنسی تحقیق اور پیشہ ورانہ کاموں میں بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیا ماڈل صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ کمپیوٹر اور براؤزر کے ذریعے مختلف کام انجام دینے، دستاویزات تیار کرنے، اسپریڈ شیٹس بنانے اور پریزنٹیشنز تیار کرنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ آسٹرا پیچیدہ کاموں کو زیادہ رفتار، درستگی اور بہتر فیصلہ سازی کے ساتھ مکمل کرسکتا ہے اور ضرورت کے مطابق ایک ہی کام کے دوران مختلف مراحل کو خود سنبھال سکتا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق ماڈل کو سافٹ ویئر تیار کرنے، آن لائن تحقیق، سائنسی کاموں اور دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں صارفین کی معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ آسٹرا کی آزمائشوں میں اسے پیچیدہ کام انجام دیتے ہوئے دیکھا گیا، جن میں ویب پر معلومات تلاش کرنا، سافٹ ویئر تیار کرنا اور کمپیوٹر پر مختلف مراحل مکمل کرنا شامل ہیں۔
جی پی ٹی 6 آسٹرا کو مرحلہ وار صارفین تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر محدود اداروں کو رسائی دی گئی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اسے بزنس پرو ،چیٹ جی پی ٹی پلس ،اور انٹرپرائزصارفین کے لیے بھی دستیاب کیا جائے گا۔
تاہم نئے ماڈل کی غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ اس کی نگرانی اور حفاظت بھی اہم موضوع بن گئی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق آسٹرا میں اضافی حفاظتی نگرانی شامل کی گئی ہے تاکہ ایسے معاملات کی نشاندہی کی جاسکے جہاں ماڈل صارف کی ہدایات کو درست طور پر نہ سمجھ سکے۔
