مومنہ اقبال ہراسمنٹ کا کوئی ایک میسج دکھا دے، قوم کے سامنے معافی مانگوں گا، ثاقب چڈھر کا چیلنج

مومنہ اقبال کوئی ایک میسج یا کال یا کوئی سوشل میڈیا ایپ کا میسج دکھا دے، جس میں اسے میں نے کوئی ہراسمنٹ والا میسج کیا ہو یا کوئی تھریٹ کیا ہو؛ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کی پوڈکاسٹ میں گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس میں نامزد مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چڈھر نے اداکارہ کو چیلنج دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے خلاف ہراسانی کا کوئی ایک بھی ثبوت، کال یا میسج سامنے لا دیا جائے تو وہ ناصرف اداکارہ بلکہ پوری قوم سے معافی مانگیں گے۔ اس حوالے سے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی ایم پی اے نے کہا کہ آپ مومنہ اقبال کو صبح اپنے شو میں بلائیں اور وہ آپ کو کوئی ایک بھی ایسا میسج، کال یا سوشل میڈیا ایپ کا پیغام دکھا دے جس میں میں نے دسمبر 2025ء کے بعد یا اس سے پہلے اسے کوئی ہراسمنٹ کا میسج کیا ہو یا کوئی دھمکی دی ہو، اگر ایسا کوئی ایک ثبوت بھی سامنے آ گیا تو میں عوام کے سامنے اس سے معافی مانگوں گا، اور میں پوری قوم سے بھی معافی مانگوں گا۔


ثاقب چڈھر نے کہا کہ میرا مقصد ہرگز اداکارہ مومنہ اقبال کی تذلیل کرنا نہیں ہے، میری بیگم تو جائے نماز پر بیٹھ کر دعائیں کرتی تھی کہ مومنہ اقبال کی شادی ہو جائے، اور دوسری طرف یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اس کی شادی رکوانے کے چکروں میں تھی؟ ایسا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟۔


انہوں نے مومنہ اقبال کی بہن رمشاء سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اسے ہمیشہ اپنی سگی بہنوں کی طرح سمجھا اور اس کی ہر ممکن مالی و اخلاقی مدد کی، میں رمشہ کو اپنی بہن مانتا تھا، اسی لیے اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا بھیجا اور وہاں اپنے ایک دوست کی کمپنی میں اسے نوکری بھی دلوائی۔


ثاقب چڈھر نے دعویٰ کیا کہ رمشہ نے آسٹریلیا میں نقد کیش کے لین دین کے دوران ان کے دوست کی چھپ کر ویڈیو بنائی اور بعد میں ان پر ہراسانی کا مقدمہ درج کرا دیا، رمشہ اور اس کے ساتھیوں نے 10 لاکھ آسٹریلین ڈالر کی ڈیمانڈ کی تھی اور آخر کار 1 لاکھ 65 ہزار ڈالر لے کر معاملہ رفع دفع کیا اور وہ یہ رقم لے کر پاکستان واپس آئی، میرے پاس ان معاملات، کیش ٹرانزیکشنز اور بلیک میلنگ کے ثبوت موجود ہیں۔

WhatsApp
Get Alert