کسی نہ کسی دن ہو سکتا ہے محسن نقوی کہیں بہت ہوگیا، میں چھوڑ رہا ہوں، نجم سیٹھی

لاہور (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار نجم سیٹھی نے وفاقی وزیر محسن نقوی پر سیاسی و انتظامی دباؤ، پارلیمانی و آئینی بحران اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے جیو پولیٹیکل حالات پر انتہائی اہم اور دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی موجودہ سیاسی پوزیشن پر بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ محسن نقوی کے لیے انتہائی مشکل اور سخت رہے ہیں، بیک وقت دو اہم شعبوں اور وزارتوں کو ہینڈل کرنے کے بعد خارجہ پالیسی کے معاملات میں الجھنا کسی بھی عام اور نارمل انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اوپر سے سیاسی مخالفین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ان پر مسلسل شدید تنقید اور اٹیکس ہو رہے ہیں، محسن نقوی کے حالیہ بیان ‘میں رہوں یا نہ رہوں’ کا اشارہ اسی سیاسی تھکن کی طرف ہے، ایک دن ایسا آ سکتا ہے جب محسن نقوی کہیں گے کہ بس اب بہت ہو گیا، میں یہ سب کچھ چھوڑ رہا ہوں۔
محسن صاحب نے بات کی نہ میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا :نجم سیٹھی
نوکری رہے یا نہ رہے لیکن ممدانی اور صادق خان آئیں گے :عائشہ ناز
پچھلے 6 ماہ بڑے مشکل رہے محسن نقوی کے لئے دو منسٹریز کو ہینڈل کرنا اس کے بعد پھر خارجہ پالیسی نارمل بندہ بھی ہل جائے گا اوپر سے تنقید جو آ رہی ہے ان کے… pic.twitter.com/j49ysfzMIC— Waqar khan (@Waqarkhan) September 6, 2026
نئے صوبوں کے لیے ملک میں ممکنہ ریفرنڈم یا آئینی تبدیلیوں سے متعلق سوال پر نجم سیٹھی نے واضح کیا کہ آئینی و قانونی راستے میں واضح رکاوٹیں موجود ہیں، ریفرنڈم یا آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، جو اس وقت حکومت یا کسی ایک بلاک کے پاس موجود نہیں ہے، اس معاملے پر مسلم لیگ ن بالکل خاموش ہے، پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی بھی اس کے حق میں نہیں ہے، پی ٹی آئی ہر مسئلے کو عمران خان کی رہائی اور انہیں دوبارہ وزیرِ اعظم بنانے کے مطالبے سے جوڑتی ہے اس لیے موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کے اندر سے ایسی کوئی ترمیم ممکن نظر نہیں آتی۔
بین الاقوامی اور خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ مکہ معاہدے کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب امریکہ پر مزید انحصار اور بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں، اس نکتہ نظر میں مزید عرب ممالک بھی شامل ہوں گے اور اس کے نتیجے میں سابقہ ابراہیمی معاہدہ اب عملًا ختم ہو چکا ہے۔
