پاکستان میں سریا اور سیمنٹ کی قیمتیں مستحکم، تعمیراتی لاگت میں بڑا ریلیف نہ آسکا

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان میں سریا اور سیمنٹ کی قیمتیں حالیہ دنوں میں مجموعی طور پر نسبتاً مستحکم رہی ہیں، تاہم مختلف برانڈز، گریڈز اور شہروں کے لحاظ سے تعمیراتی سامان کے نرخوں میں فرق برقرار ہے۔
مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں سریے کی قیمت تقریباً 258 سے 265 روپے فی کلو کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے،تعمیراتی شعبے میں گریڈ 40 اور گریڈ 60 سریا رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
مارکیٹ ریٹس کے مطابق گریڈ 40 سریا تقریباً 258 روپے فی کلو جبکہ گریڈ 60 سریا تقریباً 262 روپے فی کلو میں دستیاب ہے، جب کہ مختلف کمپنیوں اور علاقوں کے حساب سے قیمت 265 روپے فی کلو تک پہنچ رہی ہے۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
مارکیٹ ماہرین کے مطابق سریے کی قیمت خام مال کی لاگت، توانائی کے نرخ، نقل و حمل کے اخراجات اور تعمیراتی سرگرمیوں میں طلب و رسد کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہے۔
تعمیراتی سامان کی بڑی مقدار میں خریداری کرنے والے صارفین اور بلڈرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ خریداری سے پہلے اپنے علاقے کے مختلف ڈیلرز سے تازہ قیمتیں معلوم کرلیں، کیونکہ ایک ہی برانڈ کے نرخ مختلف شہروں میں مختلف ہوسکتے ہیں۔
سیمنٹ کی قیمتیں
دوسری جانب ملک میں سیمنٹ کی قیمتیں بھی نسبتاً بلند سطح پر برقرار ہیں، مختلف برانڈز اور علاقوں کے حساب سے 50 کلوگرام سیمنٹ کی بوری تقریباً 1,350 سے 1,550 روپے کے درمیان فروخت ہورہی ہے، جبکہ اوسط قیمت 1,390 سے 1,450 روپے کے قریب بتائی جارہی ہے۔
مختلف برانڈز کے نرخ
تازہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق لکی سیمنٹ کی 50 کلوگرام بوری تقریباً 1,500 سے 1,540 روپے، بیسٹ وے سیمنٹ 1,430 سے 1,570 روپے جبکہ میپل لیف سیمنٹ تقریباً 1,570 روپے میں دستیاب ہے
اسی طرح فوجی سیمنٹ کی بوری کی قیمت تقریباً 1,440 سے 1,540 روپے جبکہ ڈی جی خان سیمنٹ 1,440 سے 1,480 روپے کے درمیان بتائی جارہی ہے،پاک سیمنٹ کی 50 کلوگرام بوری تقریباً 1,430 سے 1,560 روپے جبکہ پائیدار سیمنٹ کی قیمت 1,380 سے 1,505 روپے کے درمیان ہے۔
تعمیراتی لاگت پر اثر
سریا اور سیمنٹ تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے بنیادی سامان میں شامل ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی گھر کی تعمیر، تزئین و آرائش اور کمرشل منصوبوں کی مجموعی لاگت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سریے اور سیمنٹ کے نرخوں میں بڑی کمی یا اضافے کے بجائے مجموعی طور پر استحکام دیکھا جارہا ہے، تاہم شہر، کمپنی، معیار اور ڈیلر کے لحاظ سے قیمتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
