ان کی مسلط کردہ جعلی وزیراعلیٰ کہتی کہ انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں، سہیل آفریدی

کراچی (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دہشت گردی اور بھارت سے متعلق بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا بیان تحریک انصاف کے کسی رہنما نے دیا ہوتا تو اب تک ان پر ایف آئی آر درج ہو چکی ہوتی، جبکہ انہوں نے شکوہ کیا کہ دونوں روایتی سیاسی خاندان ہمیشہ سے لاڈلے رہے ہیں۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے مریم نواز کے پڑوسی صوبوں سے خطرے سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کا بیان ریاستی پالیسی کے مکمل برعکس ہے، ریاستِ پاکستان کا واضح اور سرکاری بیانیہ رہا ہے کہ ملک میں بھارت دہشت گردی کروا رہا ہے، مگر دوسری جانب مسلط کردہ وزیراعلیٰ دعویٰ کر رہی ہیں کہ انہیں انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں۔
“پنجاب کی جعلی وزیراعلی بیان دیتی ہے کہ اسے انڈیا سے خطرہ نہیں پاکستان کے تین صوبوں سے خطرہ ہے، ایسا بیان ہم نے دیا ہوتا تو ایف آئی آر ہو جاتی۔
ریاست پاکستان کا بیانیہ ہے کہ پاکستان میں انڈیا دہشتگردی کروا رہا ہے اور ان کی مسلط کردہ جعلی وزیراعلی کہتی کہ انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں… pic.twitter.com/PiYo07Nzfk
— PTI (@PTIofficial) September 7, 2026
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم افغانستان یا ایران سے متعلق بات کریں تو ریاست فوراً کہتی ہے کہ افغانستان یا ایران چلے جاؤ، تو کیا اب اس بیان کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی انڈیا بھیجیں گے؟ ان کی تو بھارت میں ویسے بھی دوستیاں اور ذاتی کاروبار ہیں، لیکن ان کو نہیں کہیں گہ کیونکہ وہ لاڈلے ہیں۔
شریف اور زرداری خاندان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ ان دونوں خاندانوں کے لیے ملکی نظام میں مختلف اصول اپنائے جاتے ہیں، یہ دونوں خاندان ہمیشہ سے لاڈلے رہے ہیں، کبھی باپ، کبھی بیٹا اور کبھی بھتیجی کو اقتدار ملتا ہے، تو دوسری طرف کبھی نانا، کبھی بیٹی اور کبھی نواسے کو باری باری حکومتیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے تحریک انصاف کے اندرونی جمہوری نظام کی تعریف کی اور کہا کہ خیبرپختونخواہ کی مثال سب کے سامنے ہے، جہاں میں عمران خان کا کوئی رشتہ دار نہیں بلکہ ایک عام اور عام فہم ورکر ہوں جسے وزیراعلیٰ کے اہم عہدے پر بٹھایا گیا ہے، اپنے عام کارکن کو اتنے بڑے منصب تک پہنچانا صرف اور صرف عمران خان کا ہی فیصلہ اور ظرف ہو سکتا ہے۔
