یادگارِ فتح کی تقریب میں اذان جبار کی مریم نواز کے ساتھ صفِ اول میں موجودگی پر سوالات اٹھ گئے


لاہور (قدرت روزنامہ)گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی یادگارِ فتح کی تقریب کے سیٹنگ پلان اور پروٹوکول کے معاملے پر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا جہاں اعلیٰ ریاستی اور عسکری قیادت کے ساتھ صفِ اول میں خاندانی شخصیت کی موجودگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر صحافی ماجد نظامی نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ ماہ ہونے والی اس اہم سرکاری تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس وقت کے ہونے والے اور اب داماد اذان جبار کس آئینی، قانونی یا سرکاری حیثیت میں صفِ اول میں براجمان تھے؟۔

انہوں نے حکومتی پروٹوکول کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ کیا مریم نواز کا داماد ہونا اتنی اہم قابلیت ہے کہ وہ صدرِ مملکت، وزیراعظم، نائب وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ، آرمی چیف، ائیر چیف مارشل، نیول چیف اور کمانڈر سٹرٹیجک کمانڈ کی صف میں جگہ پائے؟۔

اسی طرح صحافی عادل نظامی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ 24 اگست کو جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تقریب میں پہنچیں تو ان کے ساتھ موجود شخصیت سے وہاں موجود صحافی بھی نا آشنا تھے، یادگار فتح کی افتتاحی تقریب میں جب وزیراعلیٰ مریم نواز آئیں تو ان کے ساتھ موجود شخصیت کو کوئی نہیں جانتا تھا، میں نے بھی تقریب کے دوران ساتھ بیٹھے صحافی دوستوں سے پوچھا کہ یہ ساتھ کون ہیں؟ اب پتہ چلا کہ مریم نواز صاحبہ کے اس وقت ہونے والے داماد اذان جبار تھے!۔

WhatsApp
Get Alert