اختر مینگل کا بیان منافقت اور سیاسی بلیک میلنگ کی انتہا ہے، اقتدار چھنتے ہی مظلومیت کا کارڈ کھیلنا پرانی عادت ہے ‘سرفراز بگٹی پر کیچڑ اچھالنے کا مقصد اپنی سرداری سیاست کو بچانا ہے، عوام اب کھوکھلے اور کاغذی نعروں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ‘ حیات خان اچکزئی

غریبوں کے بچوں کو ایندھن بنانے والے سردار اپنے بچوں کو یورپ کی پرآسائش زندگی سے نکال کر میدان میں لائیں: پی پی پی رہنما کی کڑی تنقید


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے رہنما حیات خان اچکزئی نے سردار اختر مینگل کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ان کی روایتی جذباتی سیاست، منافقت اور سیاسی بلیک میلنگ کی انتہا قرار دیا ہے۔
اپنے ایک سخت تنقیدی بیان میں حیات خان اچکزئی نے کہا کہ جو شخص دہائیوں سے اسلام آباد اور کراچی کے ایوانوں میں بیٹھ کر بلوچ عوام کے نام پر مراعات اور اقتدار کے مزے لوٹتا رہا ہو، اس کا غیرت اور جرات کا درس دینا ایک بھیانک مذاق معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اختر مینگل کو وفاق میں وزارتیں، مراعات اور سیکیورٹی پروٹوکول چاہیے ہوتے ہیں، تو انہیں ریاستی شخصیات اور ادارے قبول ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی اقتدار کا ہمالہ ہاتھ سے نکلتا ہے، وہ فوری طور پر مظلومیت کا کارڈ کھیل کر نوجوانوں کو ریاست کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پی پی پی رہنما نے اختر مینگل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں غیرت مند اور جرات مند بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ اپنے صاحبزادگان اور قریبی عزیزوں کو اسلام آباد، کراچی اور یورپ کی پرآسائش زندگی سے نکال کر اس جنگ میں آگے کیوں نہیں لاتے؟ غریب اور سادہ لوح بلوچ کے بچوں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے سڑکوں اور پہاڑوں کی نذر کرنا کون سی سرداری غیرت ہے؟
حیات اچکزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی جیسے رہنماؤں پر کیچڑ اچھالنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اختر مینگل کو اپنی سرداری سیاست کا خاتمہ نظر آ رہا ہے۔ جو قیادت پرامن پاکستان کے پرچم تلے بلوچستان کی حقیقی ترقی، تعلیم اور روزگار کے لیے کام کر رہی ہے، وہ ان روایتی سرداروں کی آنکھ کا خار بن چکی ہے۔ دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود یہ سردار اپنے ہی علاقوں میں سکول، ہسپتال اور صاف پانی تک نہ دے سکے اور اب ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جذباتیت کا سہارا لے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے باضمیر اور شعور یافتہ عوام اب ان نام نہاد سرداروں کی کھوکھلی باتوں، سیاسی بلیک میلنگ اور نعرے بازی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ صوبے کا مستقبل گولی، اشتعال اور ٹکراؤ میں نہیں، بلکہ آئینی بالادستی، تعلیم اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی طرح پرامن، ترقی یافتہ اور مضبوط پاکستان سے جڑے رہنے میں ہے۔

WhatsApp
Get Alert