بلوچستان میں جمہوریت کے لبادے میں آمریت قطعی ناقابل قبول ہے، عوام کا مینڈیٹ اور پارلیمنٹ عملاً یرغمال بن چکے ہیں: جمعیت علمائے اسلام

ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ اور غیر جمہوری طرز عمل ملک کے مستقبل کے لیے زہر قاتل ہے، ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں


آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی ہی سیاسی اور آئینی بحرانوں کا واحد حل ہے: جے یو آئی کوئٹہ
کوئٹہ(ڈیلی قدرت)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے کہا ہے کہ جمہوریت کے لبادے میں آمریت کسی صورت قابلِ قبول نہیں بدقسمتی سے ملک میں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ عملا یرغمال بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کی توہین آئینی حدود سے تجاوز اور پارلیمنٹ کو بے اختیار بنانے کے مسلسل رجحان نے ملک کے جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ریاستی معاملات آئین و قانون کے مطابق چلانے کے بجائے غیر جمہوری طرزِ عمل کو فروغ دینا ملک کے مستقبل اور قومی وحدت کے لیے زہر قاتل ہے۔ رہنماں نے کہا کہ جمہوریت محض انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نام ہے جب عوام کے ووٹ کی حیثیت کمزور پارلیمنٹ بے اختیار اور آئینی حدود پامال ہوں تو جمہوری نظام محض ایک رسمی ڈھانچے تک محدود ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتدر قوتوں کی بالادستی، سیاسی معاملات میں غیر ضروری مداخلت اور انانیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کے باعث ملک اندرونی و بیرونی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے جس کے منفی اثرات قومی سیاست معیشت اور ریاستی استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ اور عوامی مینڈیٹ سے بے اعتنائی نے ملک کو سیاسی و آئینی بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں پارلیمنٹ کے وقار اور اختیار کو بحال کیا جائے اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو سیاسی بے یقینی ادارہ جاتی کشمکش اور بڑھتے ہوئے بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قانون کی حکمرانی، اداروں کے آئینی دائر کار کا احترام اور عوام کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کرنا ہے۔

WhatsApp
Get Alert