سعودی شہروں پر حملوں کے خطرات مکہ مکرمہ تک پھیل گئے


ریاض (قدرت روزنامہ) سعودی عرب کی قومی ایمرجنسی و سول ڈیفنس اتھارٹی نے ملک کے مغربی خطے بالخصوص جدہ، مکہ مکرمہ اور طائف میں ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر ہنگامی سائرن اور وارننگ الرٹس جاری کیے، جس کے کچھ ہی دیر بعد مکہ مکرمہ کے لیے جاری کردہ انتباہ کو باقاعدہ طور پر واپس لے لیا گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو فوری طور پر قریبی محفوظ عمارتوں اور اندرونی کمروں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی، شہریوں کو کھلے مقامات، کھڑکیوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی، سڑکوں پر موجود ڈرائیوروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ گاڑیوں کو پلوں اور بلند عمارتوں سے دور محفوظ مقامات پر پارک کریں، تاہم بعد ازاں سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ کی حد تک جاری کردہ ہنگامی وارننگ کو اٹھالیا اور صورتحال کو قابو میں قرار دیا۔
معلوم ہوا ہے کہ سرحدی کشیدگی اور تنازعہ اس وقت شدت اختیار کرگیا جب حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر کے دھانے پر واقع پیرم جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد سعودی عرب کی اہم ترین 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر فضائی حملہ کیا گیا، تیل کے تاجروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پائپ لائن کی طویل بندش سے عالمی سطح پر تیل کی کل فراہمی میں 4 فیصد تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے، سعودی عرب نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ پائپ لائن کی مرمت اور دوبارہ بحالی کب تک ممکن ہو سکے گی۔
بتایا جارہا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے ہیں، جس پر سعودی حکومت نے سخت ترین ردِعمل دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، اس صورتحال کے جواب میں سعودی اور یمنی فضائی فورسز نے بحیرہ احمر کی بندرگاہ موخا کے قریب حوثی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے، تاہم یمنی حکومتی حکام کے مطابق حوثی باغی اب بھی بحیرہ احمر کے قریباً پورے مغربی ساحلی پٹی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert