اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے بلوچستان سے قافلے آج اور کل روانہ ہوں گے مقتدر قوتوں اور حکمرانوں نے قومی خزانے کو ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے، اشرافیہ کی مفت خوری ختم نہیں ہو رہی: مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
عوام کے حقوق کے لیے میدان عمل میں صرف جماعت اسلامی کھڑی ہے، حکومت مذاکرات میں سنجیدگی دکھائے، وقت گزاری سے مسائل حل نہیں ہوں گے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) 20 ستمبر اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے بلوچستان سے قافلے آج جمعہ اور کل ہفتہ روانہ ہوں گیتمام اضلاع و برادر تنظیموں کو اہداف اور ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔لانگ مارچ میں پٹرولیم مصنوعات پربھتہ خوری،بدعنوانی اوربلوچستان میں بدامنی،لاقانونیت کے خلاف اورامن وحقوق کیلئے آوازبلندکی جائیگی۔جماعت اسلامی پورے ملک میں40دنوں سے40بڑے اضلاع میں ہزاروں لوگوں کے بڑے بڑیدھرنے واحتجاج پرہے۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ 20 ستمبر اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے بلوچستان سے قافلے آج جمعہ اور کل ہفتہ روانہ ہوں گے۔ تمام اضلاع اور برادر تنظیموں کے ذمہ داران کو اہداف اور ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔امرائے اضلاع اور برادر تنظیموں کے ذمہ داران مرکزی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے صوبے سے دیے گئے اہداف مکمل کریں اور ہدایات کے مطابق اپنے قافلوں کے ہمراہ اسلام آباد کے لیے سفر شروع کریں۔ملک میں عوام کی آوازوحقیقی عوامی اپوزیشن صرف جماعت اسلامی ہے جو40دنوں سے عوامی حقوق کیلئے اوربھتہ خوری ولوٹ مارکے خلاف دھرنے و احتجاج پرہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امرائے اضلاع،برادرتنظیموں کے ذمہ داران، ارکان وکارکنان کو 20 ستمبر اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے اہداف اور سفری ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی گزشتہ 40 دنوں سے پورے ملک میں دھرنوں اور پرامن جمہوری مزاحمت کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر اور قومی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ 20 ستمبر کا اسلام آباد لانگ مارچ اسی پرامن جمہوری جدوجہد کا اہم مرحلہ ہے۔ظلم وجبر، بھتہ خوری، بدعنوانی،بدامنی اور عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف اٹھنے والا عوامی سیلاب اور جمہوری مزاحمت کا قافلہ اپنا راستہ خود بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد لانگ مارچ میں بلوچستان سے کثیر تعداد میں عوام، ارکان وکارکنان شریک ہوں گے۔ بلوچستان کے سلگتے ہوئے قومی مسائل، عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، حقوق سے محرومی، بارڈرز اور سڑکوں کی بندش، روزگار کے مسائل، بدامنی اور معاشی مشکلات کو قومی سطح پر اجاگر کرکے ان کے حل کی راہ ہموار کی جائے گی۔ لانگ مارچ کے پہلے دن ہی بلوچستان کی بھرپور نمائندگی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلاعذرِ شرعی تمام ارکان کی شرکت لازمی ہوگی۔ قافلوں میں نظم وضبط، دینی ماحول اور باہمی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔ سیکیورٹی کے انتظامات جے آئی یوتھ، اسلامی جمعیت طلبہ اور جمعیت طلبہ عربیہ کے ذمہ داران انجام دیں گے۔ ارکان، کارکنان اور ذمہ داران صوبائی وضلعی نظم سے ہدایات لینے کے پابند ہوں گے اور سفر کے دوران نظم جماعت ،اخوت اور باہمی اتحاد کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق، امن، روزگار، عزت اور وسائل پر منصفانہ حق کا مطالبہ کررہے ہیں۔ صوبے کے عوام کو مزید محرومی، بدامنی اور معاشی مشکلات کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام آباد لانگ مارچ بلوچستان کی آواز کو قومی ایوانوں اور حکمرانوں تک پہنچانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو عوام کی مشکلات کی فکر نہیں، حکمرانوں اور مقتدر قوتوں نے قومی خزانے کو ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے۔ ہر سطح پر بدعنوانی عروج پر ہے۔ پٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ خوری اور عوام پر مسلسل معاشی بوجھ ناقابل قبول ہے۔ ایک طرف عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں جبکہ دوسری جانب حکمران طبقے اور اشرافیہ کی شاہ خرچیاں، مراعات اور مفت خوری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں خاموش صرف جماعت اسلامی اپنا آئینی وجمہوری کردار ادا کررہی ہے۔میدان عمل میں عوامی مسائل کو مسلسل اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعت اسلامی گزشتہ 40 دنوں سے دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے موجود ہے۔حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور عوام کے مطالبات پر عملی پیش رفت کرے، محض وقت گزاری سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوٹ مار، بدعنوانی، بھتہ خوری، بدامنی اور عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد کسی ایک جماعت یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی پرامن، آئینی اور جمہوری طریقے سے عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ عوام 20 ستمبر کے لانگ مارچ سمیت جماعت اسلامی کے پرامن دھرنوں اور احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور اپنے جائز، آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ عوامی طاقت پرامن اور منظم ہو تو کوئی رکاوٹ اسے اپنے بنیادی حقوق کے مطالبے سے دستبردار نہیں کرسکتی۔ ان شا اللہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے حصول، بدعنوانی کے خاتمے، امن کے قیام اور ایک منصفانہ نظام کے لیے اپنی جمہوری مزاحمت جاری رکھے گی۔
