26 نومبر جیسا عدالتی حکم دوبارہ جاری کردیا گیا، جسٹس ڈوگر کے فیصلے پر مطیع اللہ جان کا اعتراض

محسن نقوی نے بندوق اسلام آباد ہائیکورٹ کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد اب احتجاج کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں یعنی کہ اسلام آباد ہائیُکورٹ نے حکومت کو ’لائسنس ٹو کِل‘ دے دیا؟ سینئر صحافی کا سوال


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف صحافی اور تجزیہ کار مطیع اللہ جان نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عدالتی احکامات کی آڑ میں حکومت کو احتجاج کرنے والے شہریوں پر تشدد کا ایک طرح سے پروانہ دے دیا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے پرامن احتجاج کے بنیادی و آئینی حق سے متعلق سوال پر وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بندوق اسلام آباد ہائی کورٹ کے کندھے پر رکھ کر چلاتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ عدالتی حکم کے بعد اب احتجاج کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو شہریوں کے خلاف ’لائسنس ٹو کِل‘ دے دیا ہے؟۔

سابقہ اور موجودہ عدالتی احکامات کا موازنہ کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے کہا کہ جس طرح 26 نومبر 2024ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک آرڈر دے کر حکومت کو طاقت کے بے دریغ استعمال کی کھلی چھوٹ دی تھی اور جس کے نتیجے میں 26 نومبر کو خونریزی اور شہادتیں بھی ہوئی تھیں، بالکل اسی طرز پر اب کی بار چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اس تازہ فیصلے کے ذریعے حکومت کو ایک بار پھر ’لائسنس ٹو کِل‘ مہیا کردیا، عدالت کے ایسے فیصلے انتظامیہ کو پرامن سیاسی کارکناں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر اکسانے کا سبب بنتے ہیں۔
عمران خان کی مقبولیت اور شریف خاندان پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی نے کہا کہ اگر مقتدر حلقے یا حکومت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کو ملکی سیاست سے نااہل یا غیر متعلق کر دیں گے اور لوگوں کے ذہنوں سے ان کی تصویر اور آواز ختم کر دیں گے، تو یہ محض ان کی خام خیالی ہے کیونکہ عوام اپنے لیڈر کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، عمران خان کو تو غیر متعلق نہیں کیا جا سکا لیکن نواز شریف، ان کی پوری پارٹی اور ان کا پورا خاندان عوام کی نظروں میں مکمل طور پر غیر متعلق ہو چکا ہے۔
18 ستمبر کے عدالتی فیصلے کے سیاسی نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے کہا کہ یہ 18 ستمبر پی ٹی آئی کے لیے تاریخی طور پر ایک اور 13 جنوری ثابت ہوا ہے، اور اس بات کی سنگینی کا احساس شاید تحریک انصاف کی قيادت کو فوری طور پر نہ ہو، 13 جنوری کو بھی پی ٹی آئی کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اسے بطور سیاسی جماعت انتخابی دوڑ سے باہر اور مفلوج کیا گیا تھا اور آج 18 ستمبر کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے تفصیلی وجوہات کے نام پر جو سخت آبزرویشنز جاری کی ہیں، وہ مستقبل میں پاکستان تحریک انصاف پر مکمل اور باقاعدہ سیاسی پابندی عائد کرنے کی مضبوط قانونی بنیاد بنیں گی۔

WhatsApp
Get Alert