اسلام آباد پولیس نے 2 ہفتے سے ہماری ایک ہزار سے زائد گاڑیاں اور کنٹینرز پکڑے ہوئے ہیں، اویس چوہدری
کافی کنٹینرز میں سامان موجود ہے، گاڑیوں کے کرائے کیلئے 40 کروڑ کا بجٹ دیا گیا ہے لیکن یہ پیسے کہاں چلے گئے؟ ڈرائیورز کو پینے کیلئے پانی تک میسر نہیں؛ صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ لانگ مارچ اور سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے لگائے جانے والے سکیورٹی بلاکیڈز اور کنٹینرز کے تنازعہ پر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن اور اسلام آباد پولیس کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے جہاں ٹرانسپورٹرز نے 1000 سے زائد کنٹینرز کی زبردستی تحویل اور کرائے کی عدم ادائیگی کا انکشاف کردیا۔
سینئر اینکرپرسن ندیم ملک کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے گزشتہ دو ہفتوں سے ٹرانسپورٹرز کی ایک ہزار سے زائد گاڑیاں اور کنٹینرز زبردستی روکے ہوئے ہیں، جن میں سے متعدد کنٹینرز میں قیمتی سامان بھی موجود ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خبریں چل رہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے گاڑیوں کے کرائے کی مد میں 40 کروڑ روپے کا بھاری بجٹ مختص کیا گیا ہے لیکن ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جا رہا، یہ پیسے کہاں چلے گئے؟کیوں کہ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہمارے ڈرائیوروں کو تو پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں۔
اسلام آباد پولیس نے 2 ہفتے سے ہماری ایک ہزار سے زائد گاڑیاں اور کنٹینرز پکڑے ہوئے ہیں، کافی کنٹینرز میں سامان موجود ہے، گاڑیوں کے کرائے کیلئے 40 کروڑ کا بجٹ دیا گیا ہے، لیکن یہ کہاں چلے گئے؟؟ ڈرائیورز کو پینے کیلئے پانی تک میسر نہیں، محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ صدر آل پاکستان گڈز… pic.twitter.com/QFhRWsdgFP
— Nadeem Malik 🇵🇰 (@nadeemmalik) September 22, 2026
دوسری جانب آئی جی اسلام آباد محمد سہیل چوہدری نے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے وفد سے ملاقات کی، جس میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز محمد جواد طارق بھی موجود تھے، ترجمان وفاقی پولیس نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد نے ہدایت کی ہے کہ ادویات، اشیائے خورد و نوش اور جلد خراب ہونے والے سامان سے بھرے کنٹینرز کو فوری طور پر مالکان کے حوالے کیا جائے، امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے تمام کنٹینرز اور گاڑیوں کا مناسب کرایہ ٹرانسپورٹرز کو بلا تاخیر ادا کیا جائے گا۔
