ڈالر کی اونچی اڑان، ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی ریکارڈ

کراچی (قدرت روزنامہ)ایران میں امریکی ڈالر کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار تومان کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی ہے، جو کہ ایران کی تاریخ میں کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں ۔
یورو اور پاؤنڈ بھی کہیں پیچھے نہیں
صرف ڈالر ہی نہیں، دیگر بڑی کرنسیوں میں بھی تیزی کا رجحان نمایاں ہے، ایک یورو کی قیمت 2 لاکھ 84 ہزار تومان سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 3 لاکھ 31 ہزار تومان سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے۔
یوں غیر ملکی کرنسی رکھنے والوں کے لیے یہ صورتحال فائدہ مند ہے، مگر مقامی کرنسی میں کمائی کرنے والوں کے لیے بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
مذاکرات پر غیر یقینی کے سائے
کرنسی مارکیٹ میں اس بے چینی کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے مستقبل پر برقرار غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے، جب تک یہ واضح نہیں ہوتا کہ بات چیت آگے بڑھے گی یا رک جائے گی، تب تک منڈی میں اعتماد بحال ہونا مشکل نظر آتا ہے ، عموماً ایسے حالات میں لوگ اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر ملکی کرنسی کا رخ کرتے ہیں، جس سے طلب بڑھتی ہے اور قیمتیں مزید اوپر جاتی ہیں۔
کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار
ڈالر کی مسلسل بڑھتی قیمت نے ایرانی کاروباری طبقے کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے، درآمدی مال منگوانے والے تاجروں کے لیے لاگت کا اندازہ لگانا دشوار ہو گیا ہے، کیونکہ قیمتیں بار بار بدل رہی ہیں، نتیجتاً اشیا کے دام بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کا براہِ راست اثر عام صارف کی جیب پر پڑ سکتا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
ریال کی کمزور ہوتی قدر اور تجارت میں بڑھتی رکاوٹیں ایران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کر رہی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے انتباہات اور حالیہ فوجی جھڑپیں ایران اور خطے پر ایک بار پھر تنازع کے خطرے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں کرنسی کی سمت کا زیادہ تر انحصار ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت پر ہو گا، اگر بات چیت میں مثبت اشارے ملے تو منڈی کو کچھ سہارا مل سکتا ہے، بصورت دیگر غیر یقینی کی یہ فضا قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert