عالمی عدالت انصاف فیصلہ دے چکی، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ ختم نہیں کیا جا سکتا، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کا پابند ہے اور وہ ’سندھ طاس معاہدہ‘ کو کسی صورت یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔
بدھ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے پر عالمی ثالثی عدالت پہلے ہی پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ سنا چکی ہے۔
تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آبی وسائل کی تقسیم کا یہ معاہدہ دو فریقین کے درمیان باضابطہ طور پر طے پایا تھا اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے اسے کسی ایک فریق کی جانب سے معطل یا ختم کرنا ایک غیر قانونی عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ : پاکستان کو بھارت کے خلاف بڑی قانونی کامیابی حاصل
ان کا کہنا تھا کہ جب 2 ممالک کے درمیان کوئی بھی عالمی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو اس پر من و عن عمل درآمد متعلقہ فریقین کے لیے لازمی قرار پاتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ بھارت اس معاہدے سے دستبردار ہونے کا مجاز نہیں ہے اور وہ ہر حال میں عالمی قوانین اور ضابطوں کی پاسداری کرنے کا پابند ہے۔
عالمی عدالت کا فیصلہ اور پاکستان کا مؤقف
وزیرِ اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ آبی تنازعات کے حل کے لیے قائم عالمی عدالت اس معاملے پر پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹھوس فیصلے کے بعد بھارت کے پاس معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز باقی نہیں بچا۔ عالمی عدالت کی رولنگ اس بات کی حتمی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قانون اور انصاف کے عین مطابق ہے۔
یاد رہے ’سندھ طاس معاہدہ‘ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں (راوی، ستلج اور بیاس) کا مکمل کنٹرول بھارت جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کا کنٹرول پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے بھارتی قیادت کی جانب سے اس معاہدے پر نظرِ ثانی یا اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کی گیدڑ بھبکیاں دی جا رہی تھیں۔
اس کے علاوہ، بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس کی متنازع تعمیر پر پاکستان نے عالمی فورمز پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے، جس پر دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے تحفظات کو سنتے ہوئے اس کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔
جغرافیائی و قانونی پہلو
اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے دہائیوں تک دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان پانی کے مسئلے پر کسی بڑی جنگ کو روکے رکھا ہے۔
موجودہ بھارتی دھمکیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کا مقصد محض اندرونی سیاست چمکانا اور پاکستان پر آبی دباؤ بڑھانا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت آبی معاہدوں کو جنگ یا کشیدگی کی صورت میں بھی یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت اگر اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ یہ عالمی سطح پر طے شدہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔
ایسا کوئی بھی قدم بھارت کو عالمی برادری کے سامنے ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر کھڑا کر دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان قانونی محاذ پر مضبوطی سے کھڑا ہے اور بین الاقوامی ادارے اس کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert