ہم پر تنقید کریں یا تعریف، صحافی مکمل آزاد ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا میڈیا سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر نے نئے میڈیا سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ میڈیا آزاد ہے اور وہ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید یا تعریف کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی تاریخ میں کورٹ رپورٹرز کی پیشہ ورانہ سہولت کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور دیگر معزز جج صاحبان نے باقاعدہ طور پر ہائیکورٹ میڈیا سینٹر کا افتتاح کیا۔
اس پروقار تقریب میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس راجا انعام امین منہاس نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر قانونی اور صحافتی برادری کی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔
آزادیِ صحافت پر چیف جسٹس کا پیغام
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے میڈیا نمائندگان کو ان کی نئی اور جدید سہولیات پر مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے صحافتی آزادی کی اہمیت اور جمہوری معاشرے میں اس کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم ایک آزاد میڈیا کے لیے اس ہائیکورٹ میڈیا سینٹر کا افتتاح کر رہے ہیں۔
ان کا واضح پیغام تھا کہ صحافی بے شک ان پر تنقید کریں یا ان کی تعریف کریں، وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے اور حقائق عوام تک پہنچانے میں مکمل آزاد ہیں۔
قانونی اور صحافتی شخصیات کی شرکت
اس اہم سنگِ میل کی افتتاحی تقریب میں عدالتی افسران اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے اسے رونق بخشی۔
تقریب میں پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ بھی موجود تھے۔ ہائیکورٹ انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے رجسٹرار یار محمد ولانہ، ایڈیشنل رجسٹرار نور محمد مرزا اور ڈپٹی رجسٹرار نے بھی شرکت کی۔
مزید یہ کہ صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی، جنرل سیکرٹری بیرسٹر قاسم نواز عباسی اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے کورٹ رپورٹرز کی موجودگی نے اس بات کو ثابت کیا کہ عدالتی رپورٹنگ ایک مشترکہ اور مربوط عمل ہے۔
عدالتی کارروائیوں کی کوریج ہمیشہ سے صحافت کا ایک انتہائی حساس، پیچیدہ اور اہم جزو رہی ہے۔ کورٹ رپورٹرز کو اپنے فرائض کی ادائیگی، خبروں کی بروقت ترسیل اور عدالتی فیصلوں کے تکنیکی پہلوؤں کو بریکنگ نیوز کی صورت میں عوام تک پہنچانے کے لیے ایک مناسب جگہ اور جدید آلات کی طویل عرصے سے ضرورت تھی۔
اس میڈیا سینٹر کا قیام اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے دیرینہ مطالبات کا حصہ تھا۔ یہ اقدام عدلیہ اور صحافت کے درمیان شفافیت، ہم آہنگی اور معلومات تک رسائی کو بہتر بنانے کی کڑی کا حصہ ہے۔
عدلیہ اور صحافت کے تعلقات کا نیا باب
جمہوری معاشروں میں ایک آزاد عدلیہ اور آزاد پریس لازم و ملزوم تصور کیے جاتے ہیں اور ان دونوں کی مضبوطی ہی نظام کی بقا کی ضامن ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کا کھلے عام تنقید کو قبول کرنے کا اعلان دراصل اداروں کے اندر شفافیت اور جوابدہی کے جمہوری اصولوں کی مضبوط توثیق ہے۔
جب کوئی چیف جسٹس صحافیوں کو تنقید کی آزادی کی واضح ضمانت دے، تو اس سے نہ صرف آزادیِ اظہارِ رائے کو تقویت ملتی ہے، بلکہ نظامِ عدل پر عوام کا اعتماد بھی گہرا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں:ملک میں آزادی اظہار رائے کی آئینی حد کہاں تک؟، حکومت اور فوج ایک پیج پر، ڈی جی آئی ایس پی آر کا 2 سال پرانا بیان وائرل
عدالتی احاطے میں جدید میڈیا سینٹر کی فراہمی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ عدلیہ صحافیوں کے کردار کو محض ایک خاموش تماشائی نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی اور معاشرتی شعور کی بیداری میں ایک اہم شراکت دار سمجھتی ہے۔
یہ مثبت اور حوصلہ افزا رویہ مستقبل میں ذمہ دارانہ، تعمیری اور بے باک صحافت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

WhatsApp
Get Alert