ایس سی او سربراہ اجلاس کے لیے نئی بلٹ پروف گاڑیاں کیوں خریدی جا رہی ہیں؟ حکومت نے وضاحت کردی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کونسل کے اجلاس 2027 کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر سامنے آنے والی تنقید اور تبصروں کی وضاحت کردی۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے حوالے سے پریس اور سوشل میڈیا پر بعض شکوک پر مبنی اور غیر ضروری تبصرے سامنے آئے ہیں، جن میں خریداری کے پس منظر اور تناظر کو نظر انداز کیا گیا۔

بیان کے مطابق پاکستان اس وقت ایس سی او کے سربراہان مملکت کونسل کا چیئرمین ہے اور سربراہ اجلاس عالمی سطح کی انتہائی اہم اور باوقار تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔

یہ اجلاس اگست اور ستمبر 2027 کے دوران اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جو 1973 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد پاکستان میں ہونے والا سب سے اہم اجتماع ہوگا۔

کابینہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ سربراہ اجلاس پاکستان کو عالمی برادری میں اپنی حیثیت اور وقار مزید بلند کرنے کا موقع فراہم کرے گا، اس لیے اس اجلاس کی اہمیت کو کم، معمولی یا سیاسی رنگ نہیں دیا جا سکتا۔

بیان کے مطابق اجلاس میں سربراہان مملکت و حکومت اور عالمی اداروں کے اعلیٰ عہدیداران سمیت اہم غیر ملکی شخصیات شرکت کریں گی، جس کے باعث ان کے لیے محفوظ، قابل اعتماد اور مؤثر سفری انتظامات یقینی بنانا ضروری ہے۔ یہ انتظامات سربراہان مملکت، حکومتوں اور عالمی اداروں کے سربراہان کے دوروں کے لیے طے شدہ معیاری سیکیورٹی پروٹوکولز کے مطابق ہوں گے۔

حکومت کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور بالخصوص بیرونی دشمن عناصر کی جانب سے لاحق خطرات کے پیش نظر غیر ملکی معززین کو ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ اس وقت اس کے پاس دستیاب بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں، جو سربراہ اجلاس کے لیے درکار معیار سے بہت کم ہیں۔

بیان کے مطابق مطلوبہ معیار اور خصوصیات کی 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے پر مختلف فورمز پر غور کیا گیا اور گاڑیوں کی تعداد کم سے کم ضرورت کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔

کابینہ ڈویژن نے واضح کیا کہ تقریباً 300 دیگر غیر بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کی جائیں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں پاکستان کو ملنے والے اس اعزاز پر فخر ہونا چاہیے اور حکومت کی جانب سے اجلاس کو شایانِ شان انداز میں منعقد کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert