خیبرپختونخواہ میں کیا ہونا، اس کا فیصلہ پی ٹی آئی اور کےپی حکومت نے کرنا ہے، عامر الیاس رانا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ سے متعقل فیصلہ پی ٹی آئی اور کےپی حکومت نے کرنا ہے، گورنر راج یا ایمرجنسی! سب آئینی قانونی شقوں پر بیک وقت عمل ہوسکتا ہے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں کیا ہونا اس کا فیصلہ پی ٹی آئی اور اس کی اپنی حکومت نے کرنا ہے انہیں سب کچھ باقاعدہ طور پر بتا دیا گیا ہے اب کوئی اسے کیسے سمجھتا ہے یہ اس پر ہے گورنر راج یا ایمرجنسی اسے الگ الگ مت دیکھئے آئین میں سب کچھ ہے اور سب آئینی قانونی شقوں پر بیک وقت عمل ہو سکتا ہے جس کی مکمل تیاری موجود ہے ’’بال اب پی ٹی آئی کے اپنے کورٹ “ میں موجود ہے۔
عامر الیاس رانا نے مزید کہا کہ بطور رپورٹر مجھے جو معلوم ہوا بتا دیا بائیس ستمبر کو جب امریکہ میں تو اس معاملے پر ٹویٹ کیا تھا کہ وہ لوگ جو گورنر راج کے خلاف تھے وہ بھی اب ساتھ ہیں، اتنے دنوں کے بعد آج جو خاص بیٹھک ہوئی اس کا یہی فیصلہ سامنے نظر آرہا ہے۔
خیبر پختون خواہ میں کیا ہونا اس کا فیصلہ پی ٹی آئی اور اس کی اپنی حکومت نے کرنا ہے انہیں سب کچھ باقاعدہ طور پر بتا دیا گیا ہے اب کوئی اسے کیسے سمجھتا ہے یہ اس پر ہے گورنر راج یا ایمرجنسی اسے الگ الگ مت دیکھئے آئین میں سب کچھ ہے اور سب آئینی قانونی شقوں پر بیک وقت عمل ہو سکتا ہے…
— Aamir Ilyas Rana (@RanaAamirilyas) September 30, 2026
دوسری جانب رہنماء پی ٹی آئی جنید اکبر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کی صورت میں کوئی بھی نیا وزیراعلیٰ نہیں بنے گا۔
انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی نااہلی کی صورت میں تمام ارکان سڑکوں پر ہوں گے۔ کوئی بھی نیا وزیراعلیٰ نہیں بنے گا۔ جو بھی نااہل ہوگا، ہم میں سے کوئی بھی اسمبلی میں نہیں رہے گا، ہم سب عوام کے درمیان سڑکوں پر ہوں گے۔ اسی طرح چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کے ساتھ آنیاں جانیاں ہو رہی ہیں لیکن مقصد کی کوئی بات نہیں ہوئی، 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہمارا حتمی سیاسی فیصلہ ہے اور یہ اپنے وقت پر اٹل رہے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نہ تو ایمرجنسی جیسے حالات ہیں اور نہ ہی کسی صورت ایمرجنسی لگنی چاہیے، ہمارا لانگ مارچ مکمل طور پر سیاسی اور پرامن ہوگا، ہم کسی ادارے یا حکومت پر چڑھائی کرنے نہیں جا رہے، خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہی رہیں گے اور وہ تمام تمام اراکینِ اسمبلی جو وزیراعلیٰ بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی سی ویز فی الحال اپنی جیبوں میں ہی رکھیں۔
