مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعاون پر محمد بن سلمان کا دو ٹوک موقف سامنے آگیا

سعودی عرب (قدرت روزنامہ)سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو کسی بھی خطرے یا حملے کا سامنا ہوا تو اس کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرے گا۔
سعودی ولی عہد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
شوریٰ کونسل سے خطاب
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد بن سلمان نے شوریٰ کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں :مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کا اجلاس،دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا جائے گا۔
محمد بن سلمان نے خطے میں امن اور استحکام کے تحفظ کیلئے دفاعی تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔
سعودی عرب اہم بحری راستوں کی سکیورٹی کیلئے تعاون بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کا ذکر
سعودی ولی عہد نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا بھی حوالہ دیا۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات کی روک تھام اور سلامتی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ ہے۔
تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو خطے میں سکیورٹی سے متعلق مشترکہ اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
محمد بن سلمان نے اس تعاون کو علاقائی امن اور استحکام کیلئے اہم قرار دیا۔
بحری گزرگاہوں پر واضح مؤقف
سعودی ولی عہد نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے استعمال سے متعلق بھی واضح مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا معاشی دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
عالمی تجارت اور نقل و حمل کیلئے اہم سمندری راستوں کا تحفظ ضروری ہے۔
ان گزرگاہوں میں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر وسیع اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
خطے میں دفاعی تعاون
محمد بن سلمان کے خطاب میں سعودی عرب کی دفاعی ترجیحات بھی نمایاں رہیں۔
انہوں نے مملکت کی سلامتی کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی۔
